کمر درد کا فوری دیسی علاج

کمر درد کا دیسی علاج

کمر درد سے نجات کے قدرتی طریقے

آج کے دور میں ہم اتنے مصروف ہوتے ہیں کہ اپنے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتے، دن بھر آفس اور گھر کے کاموں کی مصروفیت سے ہمیں صحت کے حوالے سے کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اِس وجہ سے جسے دیکھو کمر پر ہاتھ رکھے پھرتا ہے۔ پوچھئے کیا ہوا تو بتائیں گے کہ بس کچھ سمجھ نہیں آئی، کمر میں ایسا درد ہوا ہے کہ چلنا پھرنا تو درکنار اٹھنا بیٹھنا عذاب ہو گیا ہے۔

اس بیماری کے عام ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سائنسی اعداد و شمار کے مطابق ہر پانچ میں سے چار افراد کو عمر کے کسی حصے میں کمر درد کا سامنا ضرور کرنا پڑتا ہے۔ اور اس پر مصیبت یہ کہ مہنگے علاج اور ڈھیروں ادویات سے بھی کم ہی راحت نصیب ہوتی ہے۔

سائنسی جریدے "لانسٹ” میں شائع ہونے والی ایک تحقیق میں اسی موضوع پر بات کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کمر درد کے مریضوں کو ڈھیروں ادویات دی جاتی ہیں، ان کی کمر میں انجکشن لگائے جاتے ہیں، بعض اوقات سرجری بھی کی جاتی ہے، لیکن یہ سب چیزیں اکثر بے سود ثابت ہوتی ہیں۔

اس لیے اکثر لوگ ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر انٹرنیٹ پر کمر درد سے متعلق سرچ کرنا شروع ہو جاتے ہیں کہ کمر میں درد ہونے کی وجوہات کیا ہیں۔ شدید کمر درد کا فوری دیسی علاج کیسے ممکن ہے۔ کمر درد سے نجات حاصل کرنے کے نسخے، ٹوٹکے، طریقے اور احتیاطیں کون کون سی ہیں؟ اگر آپ بھی ایسا ہی کچھ سرچ کر رہے ہیں تو یہ تحریر آپ ہی کے لئے ہے۔

کمر درد کی وجوہات

کمر کی درد ایک پرانا مگر آج کا سب سے بڑا مسئلہ بن چکا ہے جو سرد ی کے موسم میں کچھ زیادہ ہی شدت اختیار کر جاتا ہے ۔ کمر درد زیادہ دیر تک  بیٹھے رہنے ، کمپیوٹر پر جھک کر کام کرنے، سردی میں زیادہ دیر تک پانی میں رہنے یا پھر کسی وزنی چیز کے اٹھانے کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ کمر کا درد موٹاپے کی وجہ سے یا پھر پٹھوں  کی کمزوری اور اِن میں پڑنے والے دباو  کی وجہ سے  بھی ہو سکتا ہے۔ علاوہ ازیں اسکا بنیادی سبب بیٹھنے کا خراب انداز بھی ہوسکتا ہے نیز کوئی حادثہ بھی اسکی وجہ بن سکتا ہے۔

شادی شدہ حضرات کے لئے بھی یہ مسئلہ انتہائی تکلیف دہ ہوتا ہے کیونکہ اس سے شادی شدہ افراد زندگی کی مسرت کافور ہونے لگتی ہے۔ نوجوان بھی اس تکلیف کی وجہ سے کبڑے ہو جاتے ہیں ۔خاص طور پر ایسے نوجوان جن کی کمر میں مستقل درد ہونے لگ جائے اور بروقت علاج نہ کرا پائیں تو ان کی ازدواجی زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔

غیر مناسب غذاؤں کی وجہ سے بھی کمر کے اعصاب و مہرے کمزور ہو جانے سے اور ڈپریشن جیسے مرض کی وجہ سے نروس سسٹم متاثر ہونے سے بھی کمر میں درد جاگ اٹھتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈپریشن کیا ہے۔ ڈپریشن کی علامات، وجوہات اور قدرتی علاج

زیادہ وزن بھی کمر میں خم کا باعث بنتا ہے ۔ خواتین میں اعضاء کی بھاری جسامت کندھے جھکانے کی عادت ڈال سکتی ہے جبکہ بڑھا ہوا پیٹ کمر کے نچلے حصے کو آگے کی طرف کھینچ لیتا ہے۔

سارا دن میز پر بیٹھ کر کام کرنا خمیدہ کمر کی سب سے بڑی وجہ ہے۔ اکثر لوگ کندھے جھکا کر اور گردن نیچے کی طرف کر کے کام کرتے ہیںجس سے جسم سیدھی حالت میں نہیں رہتا اور آہستہ آہستہ یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے۔

جو لوگ سیر اور ورزش نہیں کرتے اور زیادہ تر بیٹھے رہتے ہیں انکی کمر میں درد لازماً جاگ اٹھتا ہے۔اس درد کا علاج دیسی اور فطری طور پر کیا جاسکتا ہے لیکن اس سے پہلے اپنے معالج سے اس درد کے اسباب لازمی پوچھ لیں تاکہ معلوم ہوسکے کہ آپ کو کمر درد کیوں ہوتا ہے۔

کمر درد کا دیسی علاج

اگر آپ کو کمر میں درد ہے اور ہر طرح کا علاج کرنے سے بھی آرام نہیں آرہا تو پریشان مت ہوں کیونکہ ہم اپنی زندگی میں چند آسان اور معمولی تبدیلیاں اور آسان ٹوٹکے استعمال کر کے مستقل طور پر اس مسئلہ سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

1 ادرک کے ذریعے علاج

ادرک کے ٹکڑے کو باریک کاٹ لیں اور اسے اس جگہ رکھیں جہاں کمر یا ریڑھ کی ہڈی میں تکلیف ہے۔ اگر آپ کو ادرک کی وجہ سے چبھن یا تکلیف محسوس ہو تو ادرک اور جسم کے درمیان ایک انتہائی باریک کپڑا یا ٹشو رکھ لیں۔

آپ چاہیں تو ادرک کو کسی کپڑے میں باندھ کر کمر کے متاثرہ حصہ پر ساری رات لگا رہنے دیں۔صبح اٹھیں گے تو درد کافی حد تک ٹھیک ہوچکی جائے گی۔چاہیں تو اس عمل کو دھرا بھی سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ادرک کے حیرت انگیز فوائد کی مکمل تفصیل اردو میں

2 ہلدی کے ذریعے علاج

کمر میں درد کی وجہ سے انسان کا چلنا پھرنا بھی دو بھر ہو جاتا ہے اور مختلف طرح کی دردکش ادویات کھا کر صحت کے دیگر مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ اس لئے آپ ذیل میں دئیے گئے قدرتی نسخہ ضرور آزمالیں۔

ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ہلدی میں موجود کیرکیومن کی وجہ سے درد اور سوزش میں کافی آرام ملتا ہے لہذا اس کی مدد سے کمر کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ایک کپ گرم دودھ میں ایک چمچ ہلدی، ناریل کا تیل اور چٹکی بھر کالی مرچ ڈال کر پینے سے کمر کے درد میں افاقہ ہو گا۔

جس جگہ درد ہو وہاں ہلدی کو پانی یا زیتون کے تیل میں حل کرکے لگانے سے درد سے نجات مل جائے گی۔رات کو سونے سے پہلے ہلدی کو لگا کر کوئی گرم کپڑا باندھ لیں، اگلی صبح آپ واضح فرق محسوس کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ہلدی کے حیرت انگیز فوائد اور علاج کی مکمل تفصیل اردو میں

3 پنجگانہ نماز کے ذریعے

روزانہ پانچ وقت کی نماز اسلام میں فرض ہے مگر یہ صحت کے لئے بھی انتہائی فائدہ مند ہے۔ یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی، امریکا کی مینیسوٹا یونیورسٹی اور پین اسٹیٹ یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق کے دوان اسلام، عیسائیت اور یہودیت کی نماز یا عبادت کے طریقہ کار اور جسمانی صحت کے فوائد کا تقابلی جائزہ لیا گیا۔

تحقیق کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ اگر پانچ وقت کی نماز کو عادت بنالیا جائے اور درست انداز سے ادا کی جائے تو یہ کمردرد کے مسائل سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوتی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا تھا کہ مختلف طبی رپورٹس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ نماز اور جسمانی طور پر صحت مند طرز زندگی کو برقرار رکھنے میں تعلق موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نماز جسمانی تناؤ اور بے چینی کا خاتمہ کرتی ہے۔

تجربات سے معلوم ہوا کہ دوران نماز رکوع اور سجدے کی حالت میں کمر کا زاویہ ایسا ہوتا ہے جو کمر درد میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ جسم کی حرکات یوگا یا فزیکل تھراپی سے ملتی جلتی ہیں۔ اس کے برعکس نماز کے ارکان کو ٹھیک طرح سے ادا نہ کرنا درحقیقت درد میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔

4 میوہ جات کے ذریعے علاج

کمر اور ٹانگوں میں درد کسی بھی وجہ سے ہوسکتا ہے اور اس سے نجات کے لئے درد کُش ادویات سے افاقہ تو ہو جاتا ہے لیکن ان ادویات کے مضر اثرات سے بچنا مشکل ہوجاتا ہے۔ آئیے آپ کو قدرتی اجزاء سے بنے ہوئے نسخے کے بارے میں بتاتے ہیں جس کے استعمال سے ان دردوں سے نجات ممکن ہے۔

اس نسخے کے استعمال سے آپ کو چند ہی دن میں درد میں واضح کمی محسوس ہو گی اور دو ماہ کے بعد آپ کی تکلیف مکمل طور ہر ٹھیک ہو جائے گی۔ آپ کو ذیل میں بتائے گئے تین خشک میوہ جات کا دو ماہ تک باقاعدگی کے ساتھ کھانا ہے۔

  • پانچ عدد خشک آلو بخارے
  • ایک عدد خشک انجیر
  • ایک عدد خشک خوبانی

ان تمام قدرتی غذاﺅں میں ایسے اجزاء موجود ہیں جو ہماری کمر اور ٹانگوں کے ٹشوز کو ٹھیک کرتے ہوئے کمر میں درد پیدا ہونے کے امکانات کو بھی کم کرتے ہیں۔ یہ تینوں غذائیں خواتین اور مرد یکساں طورپر استعمال کرسکتے ہیں۔

5۔ ورزش کے ذریعے علاج

کیل یونیورسٹی کی پروفیسر آف مسکیولوسکیلٹل ہیلتھ نادین فوسٹر نے اپنی تحقیق میں بتایا ہے کہ کمر درد کا اصل علاج ادویات یا انجکشن نہیں بلکہ جسمانی سرگرمی، اعضاءکی موزوں حرکت، اٹھنے بیٹھنے کا درست انداز، اور باقاعدہ ورزش ہے۔

وہ کہتی ہیں کہ ہمیں یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ مہنگے ٹیسٹ اورادویات کی بجائے ہمیں ورزش اور جسمانی سرگرمی پر توجہ دینا ہوگی۔

جدید تحقیق سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مناسب ورزش کمر کے درد پر قابو پانے کے لئے مفید اور دیرپا نسخہ ہے۔ ورزش سے جسمانی ساختیں مضبوط ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں درد میں کمی واقع ہوتی ہے اور بیماری کے بگڑنے کا خدشہ بھی کم ہوجاتا ہے۔

یہاں یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ کمردرد کا معاملہ بہت حساس ہوتا ہے لہٰذا اپنے طور پر کوئی ورزش نہیں کرنی چاہیے۔ ڈاکٹر آپ کا تفصیلی معائنہ کرتا ہے اور فزیرتھیراپسٹ سے مشورہ کرنے کو کہتا ہے۔ ماہر فزیو تھیراپسٹ ہی آپ کو بتاسکتا ہے کہ کون سی ورزش کرنی ہے، کس طریقے سے کرنی ہے، اور کتنے عرصے کے لئے کرنی ہے۔

تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شدید کمر درد کی صورت میں اگرچہ درد کش ادویات کا استعمال ضروری ہو جاتا ہے لیکن یہ ادویات مسئلے کا اصل حل نہیں ہیں۔ یہ ادویات عموماً گولیوں، کریم یا جیل کی صورت میں استعمال کی جاتی ہیں۔ اگر کریم یا جیل کے استعمال سے درد میں کمی آتی ہے تو یہ طریقہ گولیاں استعمال کرنے سے بہتر ہے۔

کمر درد پر قابو پانے کے لئے انجکشن بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ عام طور پر اس انجکشن کے ذریعے سٹیرائیڈز متاثرہ حصے تک پہنچائے جاتے ہیں۔ ہر ممکن کوشش ہونی چاہیے کہ کمر میں انجکشن لگوانے سے بچا جائے تاہم اگر ادویات سے درد کا خاتمہ کسی طور ممکن نہ ہو تو ڈاکٹر آخری چارے کے طور پر انجکشن کا مشورہ دیتے ہیں۔

نفسیاتی مسائل جیسا کہ پریشانی اور ذہنی دباﺅ کمر درد کے مسئلے کو مزید سنگین کردیتے ہیں۔ اسی لئے ڈاکٹر کمردرد کے مریضوں کو ماہر نفسیات سے رابطہ کرنے کو بھی کہتے ہیں۔ کاگنیٹو بہیویرل تھیراپی کے ذریعے ماہر نفسیات مریض کو اپنی زندگی کے مسائل اور درد کی پریشانی سے بہتر طور پر نمٹنے کی تربیت دیتا ہے۔

6۔ کمر درد سے نجات کے دیگر ٹوٹکے

  1. گرم پانی میں نمک ڈال کر اس میں تولیہ نچوڑ لیں، اس کے بعد  پیٹھ کے بل لیٹ کر اس تولیہ سے بھاپ لیں، اس عمل  سے آپ کو کمر درد سے جلد نجات مل جائے گی۔
  2. ایک چمچ اجوائن کو توے پر ڈال کر ہلکی آنچ پر سینک لیں اور ٹھنڈا ہونے پر آہستہ آہستہ چباتے ہوئے نگل جائیں، ہفتہ بھر اس کے کھانے سے بھی  آپ کو کمر درد سے مکمل آرام مل جائے گا۔
  3. روز صبح سرسوں یا ناریل کے تیل میں لہسن کی چار سے پانچ تریاں ڈال کر اسے گرم کریں اور ٹھنڈا کر کے اس تیل سے کمر پر مساج کریں۔ اس کے ساتھ ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ طلوع آفتاب کے وقت دو سے تین کلومیٹر لمبی سیر پر جانے والوں کو کمر درد کی شکایت کبھی نہیں ہوتی ہے۔

کمر درد کے نقصانات

اگر آپ کی کمر میں درد رہتا ہے تو یہ انتہائی تشویشناک بات ہے کیونکہ حال ہی میں کی گئی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن لوگوں کی کمر میں درد رہتا ہے وہ جلد مرجاتے ہیں۔

European Journal of Pain میں شائع ہونے والی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ کمر میں مسلسل درد کی شکایت کرنے والے افراد کی موت جلد واقع ہوسکتی ہے۔ سائنسدانوں نے 4,390 جڑواں افراد کا مطالعہ کیا جن کی عمریں 70سال سے زائد تھیں۔

یہ بات مشاہدے میں آئی کہ جن لوگوں کی کمر میں درد تھا ان کی موت کے امکانات دیگر افراد سے 13فیصد زیادہ تھے۔ یونیورسٹی آف سڈنی کے تحقیق کار پاﺅلو فریراکا کہنا ہے کہ جڑواں افراد پر تحقیق کی وجہ سے اس بات کو رد کرنے میں مدد ملی کہ جلد موت جنیاتی طور پر ہوئی تھی۔

”جڑواں کے جینز یکساں ہوتے ہیں لہذا اس بات کا امکان بھی ختم ہوگیا کہ موت جنیاتی وجوہات سے ہوئی۔“ اس کا کہنا تھا کہ کئی لوگ سمجھتے ہیں کہ کمر کا درد زیادہ خطرناک نہیں ہوتا لیکن ایسے لوگوں کو بتانا چاہوں گا کہ اس کی وجہ سے جلد موت واقع ہوسکتی ہے۔

گو کہ ماہرین جلد موت اور کمر کے درد کے درمیان تعلق کو واضح نہیں کرسکے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اعدادوشمار میں یہ بات ہوش اڑانے کے لئے کافی ہے کہ اس کی وجہ سے جلد موت ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر آپ اس تحریر کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آپ کے ذہن میں کوئی اور سوال ہے تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر کمنٹس ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔

نوٹ: کمر میں درد سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے