بواسیر کی علامات وجوہات اور فوری دیسی علاج

بواسیر کا فوری دیسی علاج

بواسیر ایک اذیت ناک اور تکلیف دہ بیماری ہے جو انتڑیوں کی کار کردگی میں خرابی اور مقعد کی سوزش کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں یہ مرض گرمی کی نسبت سردی کے موسم میں زیادہ رو نما ہوتا ہے۔کیونکہ سردیوں میں عام طور پر ہم پانی کم پیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں جسم میں خشکی کا غلبہ ہو کر انتڑیوں کے افعال میں نقص پیدا ہو جاتا ہے جو بواسیر کی شکل میں ظاہر ہوکر تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ بواسیر کا مرض خلط سودا میں زیادتی ہونے کی وجہ سے نمو دار ہوتا ہے۔

عام طور پر بواسیر کی تین اقسام بادی، خونی اور مسوں والی سمجھی جاتی ہیں حالانکہ بواسیر کے یہ تین مختلف درجے ہوتے ہیں جو مرحلہ وار اپنی شدت دکھاتے ہیں۔ بہر حال بواسیر بادی ہو یا خونی یا پھر مسوں  والی (موہکوں والی بواسیر) ہو یہ انتہائی خطرناک مرض ہی ہے۔

بڑی آنت میں سوزش کی کیفیت پیدا ہونے با لخصوص آخری حصے میں ورم ہوجانے سے مقعد بھی متاثر ہوجاتا ہے۔یوں مقعد کا منہ پھول کر مسے کی سی شکل اختیار کر لیتا ہے۔

خونی بواسیر میں مقعد کے اندر اور باہر سرخ رنگ کے مسے بن جاتے ہیں۔یہ مسے انگور کے گچھوں کی طرح ہوتے ہیں۔ ان سے خون جاری ہوتا ہے۔ قبض رہنے کی وجہ سے پاخانہ کرتے وقت زور لگانا پڑتا ہے جس کی وجہ سے دباؤ پڑنے سے خون جاری ہو جاتا ہے۔ مرض پرانا ہو جائے تو خون قطرہ قطرہ ٹپکتا رہتا ہے۔ اس کی بنا پر سخت درد ہوتا ہے۔ اور مریض کے لئے بیٹھنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔خون بہنے کی وجہ سے کمزوری ہو جاتی ہے۔ اور مقعد میں سوزش ہو جاتی ہے۔

بادی بواسیر میں مسے مقعد کے باہر ہوتے ہیں۔ پیٹ میں ہر وقت گیس جیسی علامات ہوتی ہیں۔ بواسیر سے جوڑوں، کمر اور زانوں میں درد رہتا ہے۔ چہرہ اور جسم کی رنگت پھیکی پڑ جاتی ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے رنگت پیلی ہو جاتی ہے۔ بادی بواسیر کی وجہ سے مقعد میں جلن اور خارش بھی ہوتی ہے اور پاخانہ قبض سے آتا ہے۔ بادی بواسیر میں خون خارج نہیں ہوتا۔

خونی بواسیر میں مقعد سے خون رس کر براز کے ساتھ نکلنے لگتا ہے جبکہ بادی بواسیر میں خون تو نہیں نکلتا البتہ تکلیف خونی بواسیر سے بھی زیادہ ہوتی ہے کیونکہ مقعد کے منہ پر مسے نمودار ہونے سے رفع حاجت کے وقت انتہائی اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بواسیر کی ان دونوں اقسام میں مریض شدید قبض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔مقعد کے منہ پر تیز جلن اور خارش ہوتی ہے۔براز کے اخراج میں تنگی اور تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مریض کی بھوک ختم ہوجاتی ہے، قوتِ ہاضمہ میں خرابی پیدا ہو کر تبخیر، تیزابیت اور گیس پیدا ہونے لگتی ہے۔

براز کے مکمل طور پر اخراج نہ ہونے سے اپھارہ سا ہو کر پیٹ پھو لا پھو لا رہتا ہے۔منہ سے بدبو آتی ہے۔چہرے کی رنگت زرد اور جسامت کمزور پڑ جاتی ہے۔اعضاء میں دکھن کا احساس پیدا ہوکر جوڑوں اور کمر میں درد ہونے لگتا ہے۔نیند میں کمی اور مزاج میں چڑچڑاپن پیدا ہوکر طبیعت بے چینی کا شکار ہو جاتی ہے۔

اس بیماری میں زیادہ تر لوگ شرم و حیا کی وجہ سے ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس جانے سے کتراتے ہیں۔ اور انٹرنیٹ پر کچھ اس طرح سے سرچ کر رہے ہوتے ہیں۔ بواسیر کیا ہے اور یہ کیوں ہوتی ہے؟ بواسیر سے نجات کا فوری دیسی علاج کیا ہے؟ بواسیر کی علامات وجوہات اور نقصانات کیا ہیں؟ بواسیر سے چھٹکارہ پانے کے آسان اور گھریلو طریقے کون کون سے ہیں، بواسیر کا سو فیصد شافی اور مکمل طریقہ علاج کیا ہے؟

بواسیر کے اسباب اور اقسام کتنی ہیں؟ بواسیر سے بچاؤ کے لئے کون کون سی احتیاطی تدابیر اور پرہیز ضروری ہیں۔ خونی بواسیر اور بادی بواسیر میں کیا فرق ہے؟ مسے کیا ہوتی ہیں اور مسوں والی بواسیر کیوں ہوتی ہے۔وغیرہ وغیرہ اگر آپ بھی ایسا ہی کچھ سرچ کر رہے ہیں تو یہ تحریر آپ ہی کے لئے ہے۔

بواسیر کے اسباب/ بواسیر کی وجوہات

بواسیر ایسے افراد میں زیادہ پائی جاتی ہے جو ذہنی دباؤ اور اعصابی تناؤکی فضا میں کام کرتے ہیں۔ دفتری ماحول میں کام کرنے والے افراد کو بواسیر لاحق ہونے کے زیادہ امکان ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں صبح سے شام تک بیٹھ کر کام کرنے والے لوگ بھی اس مرض کا شکار بن سکتے ہیں۔میٹابولزم کی سستی اور انتڑیوں کی کارکردگی کو متحرک رکھنے والے مفیدبیکٹیریاز میں کمی یا خاتمہ ہوجانے سے بھی بواسیر کی علامات سامنے آنے لگتی ہیں۔

متواتر قبض کشاء ادویات جیسے چھلکا سبغول اور جلاب آور مرکبات کا استعمال کرتے رہنے سے بھی انتڑیاں کمزور ہوجانے سے بواسیر سمیت انتڑیوں کے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔ مرغن، بادی، گوشت، تیز مرچ مصالحے، چاول، بینگن، دال مسور، فاسٹ فوڈز، کولا مشروبات، سیگریٹ نوشی، منشیات، بیکری مصنوعات اور ثقیل غذاؤں کے شوقین افراد بھی بواسیر میں مبتلا دیکھے جا سکتے ہیں۔

متواتر اینٹی بائیو ٹیک اور دافع امراض قلب کی ادویات استعمال کرنے والے لوگ بھی اکثر بواسیر کی بیماری میں مبتلا پائے جاتے ہیں۔گرمی کی نسبت سردی کے موسم میں بواسیر کا شدید حملہ ہوتا ہے، اس شدت کی ایک بڑی وجہ پانی کا کم استعمال اور مرغن و توانائی سے بھرپور غذاؤں کا استعمال بھی بنتا ہے۔

بواسیر کا مرض لاحق ہونے میں بہت سے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ان میں موٹاپہ، گردے اور مثانے کی پتھری، غدہ قدامیہ کی سوزش، امراضِ معدہ، امراضِ جگر، انتڑیوں کی بیماریاں، دل کے امراض، دائمی قبض، ثقیل، مرغن، ترش اور بادی اشیاء کا زیادہ استعمال، تیز جلاب آور ادویات کا مسلسل کھانا، سستی، کاہلی، خواتین میں دیگر اسباب کے ساتھ ساتھ بندشِ حیض بھی بواسیر کا ذریعہ بن جاتا ہے۔

احتیاطی تدابیر اور پرہیز

بواسیر ایسا خبیث مرض ہے جس کو ایک بار لگ جائے روگ کی طرح چمٹ جاتا ہے اور زندگی اُجاڑ کر رکھ دیتا ہے۔ بواسیر کا انگریزی نام پائلز (Piles) ہے۔ اور ڈاکٹری اصطلاح اسے Hemorrhoids کہا جاتا ہے۔ بواسیر سے نجات کا بہترین طریقہ احتیاط ہے۔ کیونکہ احتیاط علاج سے بہتر ہے۔ یہاں پر آپ کو چند گھریلو تدابیر اور پرہیز بتائے جائے رہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ بواسیر جیسے موذی مرض سے دور رہ سکتے ہیں:

  • سب سے اہم بات ہے کہ آپ قبض نہ ہونے دیں کیونکہ بواسیر کی بنیاد قبض ہی بنتی ہے۔ قبض سے بچاؤ کے لیے ریشے دار غذائی اجزاء کا بکثرت استعمال بہترین قدرتی حفاظتی ہتھیار سمجھا جاتا ہے۔ قبض کے حوالے سے آپ ہماری تحریر قبض کیا ہے قبض کی علامات وجوہات اور قبض سے نجات کے قدرتی طریقے پڑھ سکتے ہیں۔
  • سب سے پہلے اپنی خورو نوش کی عادات، روز مرہ معمولات اور طرز زندگی کو بدلیں۔ سہل پسند زندگی کو خیرباد کہہ کر متحرک اور بھاگ دوڑ والا انداز اختیار کریں۔ پیدل چلنے پھرنے کو ترجیح دیں۔ کولڈ ڈرنکس، بیکری پروڈکٹس، فاسٹ فوڈز اور بازاری کھانوں کے معمول کو ترک کردیں۔
  • تیز مرچ مصالحے، گوشت، چاول، بیگن، مرغن و بادی غذاؤں اورسگریٹ، شراب وچائے نوشی سے دور ہوجائیں۔ خالی پیٹ سگریٹ کے استعمال سےمکمل اجتناب برتیں۔اسبغول کا چھلکا کبھی بھی استعمال نہ کریں۔
  • دودھ میں کیسٹر آئل، بادام روغن اور گل قند کا استعمال پیٹ نرم کرنے کے لیے بہترین اور مفید ذرائع ہیں۔ ان کے استعمال سے بھی بواسیر کی اذیت سے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔
  • منفی سوچیں بھی میٹابولزم کی کار کردگی کو متاثر کیا کرتی ہیں۔ حسد، بخل، بغض، کینہ، نفرت، غصہ اور تکبر جیسے جذبات سے حتی المقدور بچنے کی کوشش کریں۔ جس قدر ہو، مثبت اندز فکر اپنائیں، محبت، رواداری، ایثار، قربانی، عاجزی اور درگزر و برداشت کے احساسات کو فروغ دیں۔ ان شاء اللہ مکمل صحت مند زندگی سے لطف اندوز ہونے والے بن جائیں گے۔اس حوالے سے آپ ہماری تحریر سوچ کیا ہے؟ مثبت اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات پڑھ سکتے ہیں۔
  • گندم اور جوکادلیہ ناشتے میں لازمی استعمال کیا کریں۔اسی طرح ناشتے میں دہی کا استعمال بھی انتڑیوں کے مسائل سے محفوظ رکھتا ہے۔ موسم کی مناسبت سے پانی، پھل، پھلوں کے جوسز اور کچی سبزیوں کا مناسب استعمال کرکے ہم بواسیر کے حملے سے کافی حد تک بچ سکتے ہیں۔
  • کچی سبزیوں کو بطورِ سلاد ہر موسم اور ہر کھانے میں لازمی شامل کریں۔ کھانے کے ساتھ کھیرا، ٹماٹر، سلاد کے پتے اور بند گوبھی بطور سلاد ہر گز کھایا کریں۔ گوشت ہمیشہ سبزیوں میں ملا کر پکائیں۔ کچی سبزیوں اور پھلوں میں 80 فیصد تک پانی پایا جاتا ہے لہٰذا جتنا ممکن ہو کچی سبزیاں اور موسمی پھل اپنی خوارک کا لازمی حصہ بنائیں۔
  • چاول کے شوقین خواتین و حضرات پلاؤ اور بریانی بناتے وقت تیز مصالحہ جات کی بجائے سبزیوں کی مقدار زیادہ رکھیں۔کھانے کے فوراََ بعد سونے اور لیٹنے کی عادت ترک کردیں۔کولا مشروبات کو دستر خوان سے دور رکھیں۔
  • نہار منہ تیز قدموں کی سیر اور بدن کو گرمانے والی ورزش کو معمول کا حصہ بنا کر بواسیر سمیت لا تعداد بدنی مسائل سے بچا جا سکتا ہے۔ روزانہ کم از کم 5 سے10 کلو میٹر پیدل چلنے کو اپنا معمول بنا ئیں۔ پانی ہمیشہ ابلا ہوا اورنیم گرم پئیں۔ موسم خواہ کوئی ہو پانی کے استعمال میں کمی نہ ہونے دیں۔سات سے دس گلاس پانی روزانہ کے معمول میں شامل رکھیں۔
  • چاول جب بھی پکائیں ان میں بند گوبھی لازمی شامل کریں۔ ہفتے میں کم ازکم ایک بار بند گوبھی بطور سالن ضرور کھائیں اور دھیان رہے کہ روٹی کے ساتھ سالن ہمیشہ زیادہ استعمال کریں۔
  • ہمیشہ متوازن غذا کا استعمال کریں۔ کیونکہ متوازن غذا اچھی صحت کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ اس حوالے سے آپ ہماری تحریر متوازن غذا کیا ہے اور یہ اچھی صحت کے لئے کیوں ضروری ہے پڑھ سکتے ہیں۔

بواسیر کا علاج

بواسیر کی انگلش Piles ہے بواسیر سے نجات پانے کے لیے یوں تو بے شمار قدرتی طریقے موجود ہیں۔ تاہم ہیلپ اردو کی اس تحریر میں ہم آپ کو چند ایسے موثر ترین قدرتی طریقے بتائیں گے کہ جن پر عمل کر کے آپ بواسیر جیسے تکلیف دے مرض سے نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

  • یہ نسخہ بواسیر کی جلن سے نجات کے ساتھ ساتھ مسوں کو بھی ختم کرتا ہے اور بواسیر کے درد کا اکسیر خاص نسخہ ہے۔ ایک پاؤ خالص تازہ گائے کا دودھ لیں۔ اور اسے بہت اچھی طرح ابال لیں اس کے بعد چولہے سے اتار کر اس میں 30 ملی لیٹرخالص شہد حل کریں۔ یہ دودھ صبح اور شام کو خالی پیٹ پی لیں۔اور کھانا کھا کر ایک گھنٹے بعد انجیر زرد تازہ تین یا پانچ عدد کھا لیں۔ اس کے استعمال سے بواسیر کا درد ختم اور جلن ختم ہو جائے گی اور بواسیری مسوں سے خون آنا بند ہو جاتا ہے۔
  • کھجور ایک مکمل غذا، دوا اور مفید ٹانک ہے۔ یہ ایسے افراد جن کے مزاج میں خشکی کا غلبہ ہو بےحد مفید ثابت ہوتی ہے۔ رات کے کھانے میں نرم اور ریشے والی کھجور یں کم ازکم سات سے دس بطور سویٹ ڈش کھانا بواسیر، قبض اور اعصابی کمزوری کے خاتمے کے لیے بہترین قدرتی علاج ہیں۔
  • شہد اور روغن زیتون ہم وزن لے کر دونوں کو اچھی طرح ملا لیں یعنی حل کر لیں (دونوں کا خالص ہونا ضروری ہے ) اس محلول کو انگلی کی مدد سے مسوں پر آہستہ آہستہ ملیں خاص طور پر درد اور جلن والی جگہ پرلگائیں۔ اور اس کے استعمال کا صحیح وقت رات کو سونے سے قبل ہے. اس محلول میں روئی بھگو کر (اچھی طرح ) مقعد یعنی پاخانہ والی جگہ کے اندر انگلی سے رکھیں. بواسیر کا درد اور جلن فوراًختم ہو جائے گی اور انشا ء اللہ مسے چند یوم میں ختم ہو جائیں گے۔
  • اسی طرح خالقِ کائنات نے انجیر میں بھی بدنِ انسانی کے لیے بے شمار فوائد رکھے ہیں۔انجیر ایسے افراد جن کے مزاج میں رطوبات یعنی بلغم وغیرہ زیادہ پائی جاتی ہو کے لیے فوری اور موثر ترین دوا،مفید غذا اور طاقت ور قدرتی ہتھیار ہے۔ تین سےسات عددانجیر پانی میں بھگو کر نہار منہ کھانا دائمی قبض، بواسیراور بلغمی مواد کی زیادتی سے جان چھڑانے میں فوری مددگار بنتا ہے۔
  • ایسے افراد جن کی انتڑیاں مسلسل اینٹی بائیوٹک یا دافع امراض قلب ادویات استعمال کرتے رہنے سے خشکی کا شکار ہو گئی ہوں انہیں چاہیے کہ صبح نہار منہ دہی میں نمک سیاہ اور زیرہ سیاہ حسب ضرورت ملاکر استعمال کریں۔ انتڑیوں میں تھا یامین کی مطلوبہ مقدار کی افزائش قدرتی طور پر ہونے سے انتڑیوں کی کار کردگی بہتر ہو جائے گی۔
  • مربہ ہرڑ کے تین دانے دھو کر رات سوتے وقت کھائیں اور دودھ کے ایک نیم گرم کپ میں دو چمچ روغنِ بادام ملاکر پی لیں۔گل قند ایک کھانے کاچمچ نیم گرم دودھ میں ملاکر استعمال کرنا انتڑیوں کو نرم اور فضلات کے اخراج کو آسان بناتا ہے۔بند گوبھی پر نمک سیاہ ڈال کر سٹیم کریں اور پیٹ بھر کر کھا لیں۔دوسے تین بار متواتر ایسا کرنے سے بواسیر کی شدت میں کمی واقع ہو جائے گی۔
  • بطورِ گھریلو علاج ریٹھے کے چھلکے،مغز نیم اور رسونت ہم وزن پیس کر 250 ملی گرام کیپسول بھر کر کھانے کے بعد ایک کیپسول کھانا شروع کر دیں۔اگر موہکے ہوں اور تکلیف کا باعث بھی بنتے ہوں تو 100 ملی لیٹرروغنِ ارنڈ میں 10 گرام کافورملا کر صبح و شام اجابت سے فراغت پر مقعد پر اچھی طرح لیپ کریں۔ دو چار دنوں میں ہی بواسیری موہکوں یعنی مسوں کی تکلیف سے افاقہ ہونے لگے گا۔
  • لوکی کے چھلکے پیس کر زیتون کے تیل اور مہندی کے پتوں کے ساتھ کھرل کر کے پانچ منٹ دھیمی آنچ میں پکا کر بواسیر کے مریض کو پلانے سے شدت اختیار کرتے مرض میں کمی واقع ہونے لگی گی۔
  • تل کو پانی کے ساتھ پیس کر ہم وزن تازہ مکھن ملائیں۔ پھر دو گرام آمیزے کو مغز اخروٹ ایک گرام کے ساتھ صبح و شام چند دن کھائیں۔ یہ بواسیر کا خون بند کرنے کا بہترین علاج ہے۔ تل جوشاندے یا مٹھائی کی صورت میں لیے جا سکتے ہیں۔ تل پانی کے ساتھ گرائنڈ کر کے خونی بواسیر کے علاج کے لئے استعمال کیے جاتے ہیں۔

نوٹ: بواسیر سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر آپ اس تحریر کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آپ کے ذہن میں کوئی اور سوال ہے تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر کمنٹس ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔ 

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے