ہچکی کیوں آتی ہے۔ ہچکیوں سے نجات کے قدرتی طریقے

ہچکی کیوں آتی ہے۔ ہچکیوں سے نجات کے طریقے

ہچکی ایک ایسی عام چیز ہے جو چند منٹ سے چند گھنٹوں تک آتی رہتی ہے۔ بدقسمتی سے ہچکیوں کا کوئی باضابطہ علاج موجود نہیں ہے کہ جو ہر ایک پر کام کرے اور سائنسدانوں کے لیے یہ مرض کسی معمے سے کم نہیں۔

ہچکیوں کا سامنا تو ہر ایک کو ہی ہوتا ہے اور یہ اکثر نظام تنفس اور ڈایا فرم میں ٹکراؤ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ ویسے تو ہچکیاں بے ضرر ہوتی ہیں اور کچھ منٹ کے اندر ہی ختم ہو جاتی ہیں تاہم اگر یہ دورانیہ زیادہ ہو یا اس کی شدت عام اوقات سے زیادہ ہوں تو یہ سنگین طبی مسائل کی جانب اشارہ کر رہی ہوتی ہیں۔

ہچکی کو انگلش میں Hiccups کہتے ہیں۔ ہچکی سے چھٹکارہ پانے کے لیے مناسب علاج کی بجائے دیسی ٹوٹکے زیادہ مشہور ہیں۔جن میں سانس کا روک لینا، ٹھنڈے پانی کا ایک گلاس پینا، اپنی زبان کو باہر کی طرف کھینچنا اور چینی کھانا وغیرہ شامل ہیں۔

ہچکی کی وجوہات

ہچکی کیوں آتی ہے؟ اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ انسان کے پیٹ کے اعضاء اور سینے کے اعضاء کے درمیان موجود ڈایافرام (Diaphragm) پردہ یا جھلی ہچکی کا باعث بنتی ہے۔ جب ڈایافرام کھانے کی کسی چیز یا دیگر کسی عوامل کی وجہ سے سکڑتی ہے یا حرکت میں آتی ہے تب انسان کو ہچکی لاحق ہو جاتی ہے۔

آپ کے پردہ شکم کو لگنے والے جھٹکے نقصان دہ تو نہیں ہوتے مگر جب تک آپ ہچکی کا کوئی علاج دریافت کرتے ہیں اس وقت تک آپ کی حالت غیر ضرور ہو جاتی ہے۔

تحقیق کے مطابق اس پردے کے اشتعال میں آنے کی وجوہات میں لذیز اور چکنائی والے کھانے، سالن کا شوربہ، گیس کے حامل مشروبات، شراب اور تمباکو نوشی شامل ہیں۔ بعض اوقات ہچکی  پیٹ کی جھلی میں کسی خارش یا سکڑنے کا نتیجہ ہوتی ہے۔

کمرے کے درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی، گرم چیز کھانے کے فوراً بعد ٹھنڈا پانی یا مشروب پینے اور سگریٹ نوشی سے بھی ہچکی لاحق ہوسکتی ہے۔ بعض لوگوں کو پریشانی اور زیادہ خوشی کے عالم میں بھی ہچکی لگ جاتی ہے۔

طبی ماہرین کے مطابق جذباتی تناﺅ یا جوش و خروش بھی ہچکیوں کا باعث بنتا ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو جسم کے اندر آنے والی تبدیلی کے نتیجے میں دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ہے۔

اگر آپ بہت تیزی سے کھانے کے عادی ہیں تو اپنے کھانے کی رفتار کو کم کرلیں، کیونکہ بہت تیزی سے یا بہت بڑا نوالہ کھانا، ہچکیوں کا باعث بنتا ہے، اس کے مقابلے میں سست روی سے کھانا اس عارضی تکلیف سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

ہچکیوں سے نجات کے قدرتی طریقے

اس بیماری میں زیادہ تر لوگ ڈاکٹروں اور حکیموں کے پاس جانے کی بجائے انٹرنیٹ پر کچھ اس طرح سے سرچ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہچکی کیا ہے اور کیوں ہوتی ہے؟ ہچکی کا فوری دیسی علاج کیا ہے۔ ہچکیوں پر قابو کیسے پائیں۔ ہچکیوں سے نجات کے قدرتی گھریلو طریقے اور ٹوٹکے کون کون سے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ، اگر آپ بھی ایسا ہی کچھ سرچ کر رہے ہیں تو یہ تحریر آپ ہی کے لئے ہے۔

ذیل میں کچھ دیسی ٹوٹکے درج کیے جا رہے ہیں جن کے ذریعے آپ ہچکی کو روکنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

سانس روک کر دیکھیں

طبی ماہرین کے مطابق ہچکیاں روکنے کا سب سے عام ٹوٹکا اپنی سانس روک لینا ہے اور اسے ہی سب سے پہلے آزمانا چاہئے۔ یہ طریقہ کار پھیپھڑوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جمع کرتا ہے جس سے ہچکیوں سے نجات ملتی ہے۔

کٹھا، میٹھا یا تیکھا کھانا

ایک چمچ چینی نگل لینا ہچکیوں کو روکنے کا مقبول طریقہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے دانے پردہ شکم کو ہلکا سا چھیڑتے ہیں جس کے نتیجے میں اعصاب خود کو ‘ری سیٹ’ کرلیتے ہیں۔

ایک چائے کا چمچ شہد گرم پانی میں ہلائیں اور نگل لیں۔ یا پھر اپنی زبان کے نیچے شہد رکھیں۔ کیونکہ شہد بھی اعصاب کو پرسکون کرتا ہے اور اس طرح ہچکیاں رک جاتی ہیں۔

لیموں چاٹیں یا پھر سرکے کا ایک چمچ آزما کر دیکھیں، اس کا ترش ذائقہ جسم کے اندر جاکر ہچکیوں کو روک دے گا۔

مرچوں والی چیزیں اور چٹنی ہچکیوں کی روک تھام کے لیے کارآمد ہوتی ہیں کیونکہ ان کی حرارت اور جلن جسم کی توجہ اس جانب مرکوز کرانے کے لیے کافی ہوتی ہے اور ہچکیاں روک جاتی ہیں۔

کان کی لو کو مسلنا

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہچکی روکنے کے لیے سانس روکنے یا کوئی اور طریقہ استعمال کرنے کی بجائے صرف اپنے کان کی لو (کان کا زیریں نرم حصہ) کو مسلنا شروع کر دیں، آپ کی ہچکی رک جائے گی۔ ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ کان کی لو کو مسلنا کسی بھی اور طریقے کی نسبت زیادہ کارگر ثابت ہوا ہے، اور یہ سب سے آسان طریقہ بھی ہے۔

ٹھنڈا پانی

بہت زیادہ ٹھنڈا پانی یا پانی میں برف ملا کر پینا بھی ہچکیاں روکنے میں مدد دے سکتا ہے، ٹھنڈا پانی پیٹ کی جھلی کی خارش کو روکتا ہے جو ہچکیوں کو باعث بنتی ہے۔

کاغذ کے تھیلے میں سانس لینا

سانس روکنے کی طرح پیپر بیگ میں سانس لینا بھی ہچکیوں کو روکنے میں مدد دیتا ہے۔ کسی چھوٹے کاغذی بیگ میں منہ ڈال کر آہستگی سے گہری سانس لیں ، اس سے خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح بڑھتی ہے اور پردہ شکم کو گہرائی سے آکسیجن کھینچنا پڑتی ہے جس سے ہچکیاں روکنے کا امکان ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: زبان کی لکنت اور ہکلاہٹ کا فوری دیسی علاج

یوکے نیشنل ہیلتھ سروس کے مطابق یہ ٹوٹکا خون میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح بڑھا کر پیٹ کی جھلی کی خارش کو روکتا ہے۔

گھٹنے اپنے سینے کی جانب موڑ لینا

کرسی میں بیٹھ کر پیر کرسی کی سطح پر رکھ دیں تاکہ گھٹنے سینے کے پاس پہنچ جائیں اور ہاتھ سے ایسے تھام لیں جیسے گلے مل رہے ہوں اور پھر پیر سیدھے کرلیں، یہ عمل کئی بار دہرائیں، اس سے بھی ہچکیاں رک جاتی ہیں۔

ٹشو پیپر کا استعمال

پیپر ٹشو کی ایک تہہ گلاس کے ٹاپ پر بچھائیں اور پھر پانی کو ٹشو کے ذریعے پینے کی کوش کریں۔ اس سے پردہ شکم کو پانی کھینچنے میں جس مشکل کا سامنا ہوگا اس سے ہچکیوں کا باعث بننے والے مسلز کی حرکت بھی تھم جائے گی۔

دیگر طریقے

کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص ایسی بات کہہ دے جس سے ہچکی کا شکار مرض کو ذہنی جھٹکا لگے، اس سے بھی اسے ہچکی سے نجات مل جاتی ہے۔ اس کے علاوہ انگلی منہ میں ڈال کر زبان کی جڑ کو دبانے سے بھی ہچکی سے آرام آ جاتا ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ تاہم اگر آپ اس تحریر کے حوالے سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں یا آپ کے ذہن میں کوئی اور سوال ہے تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر کمنٹس ہر سوال کا جواب دیا جائے گا۔ 

نوٹ: ہچکی سے متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے