اپریل فول کیا ہے؟ اپریل فول کی حقیقت اور شرعی حیثیت

اپریل فول کیا ہے؟ اپریل فول کی حقیقت ، تاریخ اور شرعی حیثیت

اپریل فول کیا ہے؟ اپریل فول کی حقیقت کیا ہے۔ اپریل فول کی تاریخی اور شرعی حیثیت کیا ہے اس بارے میں بہت کم لوگ جاننے کی کوشش کرتے ہیں البتہ مغرب کی دیگر خرافات کی طرح اس دن کو بھی ہمارے ہاں بڑے خشوع خضوع سے منایا جاتا ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں بے شمار ایسی اخلاقی وبائیں اورغلط رسم و رواج ہیں جو مغربی تہذیب اوریہودیوں کی دین ہیں۔ اسی قسم کی خلافِ مروت اورخلافِ تہذیب جاہلیت کی ایک چیز "اپریل فول” بھی ہے ۔

ہماری جدید نسل خاص طور پر تعلیم یافتہ طبقہ اسے نہایت اہتمام اور گرم جوشی سے مناتا ہے اور اپنے اس فعل کو عین روشن خیالی تصور کرتا ہے ۔اس دن لوگ ایک دوسرے کو بیوقوف بناتے ہیں، آپس میں مذاق، جھوٹ، دھوکہ، فریب، ہنسی، وعدہ خلافی اور ایک دوسرے کی تذلیل و تضحیک کرتے ہیں۔

سماجی، مذہبی اور اخلاقی اعتبارسے اپریل فول منانا حرام ہے ۔اس موقع پر عوام کو بیوقوف بنانے کے لیے اخبارات میں سنسنی خیز سرخیوں کے ساتھ خبریں شائع ہوتی ہیں جسے پڑھ کر لوگ تھوڑی دیر کے لیے ورطۂ حیرت میں پڑ جاتے ہیں۔بعد میں پتہ چلتا ہے کہ آج یکم اپریل "اپریل فول ڈے” ہے۔

اپریل فول کے حرام ہونے میں کسی مسلمان کوذرہ برابر تذبذب کاشکارنہیں ہوناچاہیے اس لیے کہ اس میں جن امورکا ارتکاب کیا جاتا ہے وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق حرام ہیں۔

ہیلپ اردو کی اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ اپریل فول کیا ہے۔ اس کی حقیقت کیا ہے۔ اپریل فول کی شروعات کب اور کیسے ہوتا۔ اپریل فول کی مذہبی اور شرعی حیثیت کیا ہے۔ کیا اپریل فول ڈے منانا جائز ہے؟

اپریل فول

اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد مسلمانوں پر  بے انتہا ظلم و ستم ڈھائے گئے، ان کا قتل عام کیا گیا، ان کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کو توڑا گیا اور مسلمانوں کو زبردستی اپنا مذہب چھوڑنے پر مجبور کیا گیا، اور انکار پر مسلمانوں کو بے دخل کرکے ان کا بے دردی سے قتل کردیا گیا۔

ہیرالڈلیم سمیت مختلف تاریخ دان لکھتے ہیں کہ جب ابو عبداللہ نے اپنے باپ اور تمام مسلمانوں سے غداری کی تو اس کے نتیجے میں فرنینڈو کو اسپین پر قبضہ کرنے میں بہت آسانی ہوگئی اور اسی ابو عبداللہ کو عیسائیوں نے اپنا مقصد پورا ہونے کے بعد اسپین سے بے دخل کردیا، ابو عبداللہ نے جب غرناطہ کی کنجیاں شہنشاہ فرنینڈو کو دیں تو یہ الفاظ ادا کیے

’’ اے بادشاہ خدا کی یہی مرضی تھی، ہمیں یقین ہے کہ اس شہر کی رعایا کے ساتھ فیاضانہ سلوک کیا جائے گا‘‘ اس کے بعد وہ ایک پہاڑ پر چڑھ کر گزشتہ شان و شوکت کا نظارہ کرنے لگا اور پھر رونے لگا۔ اس کی ماں نے اس وقت اس سے یہ جملہ کہا کہ جس چیز کو مردوں کی طرح بچا نہ سکے اس گمشدہ چیز کے لیے عورتوں کی طرح آنسو بہانے سے کیا فائدہ۔

بحرحال آہستہ آہستہ عیسائی حکمرانوں نے مسلمانوں کے ساتھ بدترین سلوک کرنا شروع کیا ان کو اپنا مذہب بدلنے پر مجبور کیا گیا اور ایک آرڈیننس جاری کیا گیا کہ مسلمان یا تو عیسائی ہوجائیں یا نہ ہونے کے وجہ سے 50 ہزار سونے کے سکے دیں، ایسا نہ کرنے والا سولی پر لٹکا دیا جاتا تھا، یا انتہائی ازیت ناک سزا کا مرتکب قرار دیا جاتا تھا۔

اس کے علاوہ مدارس میں بچوں کو بپتسمہ دیا جاتا تھا مسلمانوں نے حالات کے پیش نظر اور جان کے خوف سے عیسائی مذہب قبول کرلیا تھا لیکن یہ سب ظاہری اور اوپری طور پر تھا جب بچے گھر آتے تو ان کا منہ فورا دھویا جاتا تاکہ بپتسمہ کا اثر ختم ہوجائے،

جب مسلمان نکاح کرنا چاہتے تو وہ پہلے گرجا میں جاکر عیسائی طریقے سے شادی کرتے اور گھر آکر دوبارہ نکاح کرتے، غرض حکمرانوں نے مسلمانوں پر ظلم رواں رکھا اور کچھ عرصے بعد یہ اعلان ہوا کہ مسلمان عیسائی لباس پہنے گے یعنی مسلمانوں سے ان کی شناخت کی ہر چیز چھینی جارہی تھی، حکمرانوں نے اپنے کسی عہد کی پاسداری نہیں کی ان کے ظلم سے عورتیں اور بچے بھی محفوظ نہیں تھے۔

مختصر یہ کہ ان عیسائی حکمرانوں نے ایک چال چلی کہ بچے کچے مسلمانوں سے کہا گیا کہ ان کو افریقا بھیج دیا جائے گا وہ اسپین چھوڑ دیں، مسلمان اس جھانسے میں آگئے اور انھوں نے اپنا تمام مال و اسباب اور علمی ذرخیرہ جمع کیا اور عیسائیوں کی جانب سے فراہم کردہ بحری جہازوں میں سوار ہوگئے،

ان مسلمانوں کو علم نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے، ان کو صرف یہ پتہ تھا کہ ظلم کے ماحول سے ہم دور چلے جائیں گے اگر چہ مسلمان اپنے وطن سے دور رہنے کو تیار نہ تھے لیکن ان کو اس بات کی بھی خوشی تھی کہ ان کی جان بچ جائے گی،

بندرگاہ پرحکومت کے اہلکاروں اور جرنیلوں نے مسلمانوں کو الوداع کہا اور ان کو رخصت کیا بیچ سمندر میں پہنچ کر منصوبہ بندی کے تحت ان جہازوں کو غرق کیا گیا اس کے باعث سینکڑوں مسلمان شہید ہوگئے اور ساتھ ساتھ وہ قیمتی و علمی ذخیرہ بھی برباد ہوگیا جو مسلمانوں نے بڑی مشکل سے جمع کیا تھا، یہ واقعہ یکم اپریل کو پیش آیا تھا اور یہ گیارویں صدی عیسوی کے اوائل کا واقع ہے۔

اس سازش پر اسپین بھر میں جشن منایا گیا کہ کس طرح مسلمانوں کو بے وقوف بنایا گیا اور اس کو فرسٹ اپریل فول کا نام دیا گیا یعنی یکم اپریل کے بے وقوف، اس کے بعد یہ اپریل فول کا دن اسپین سے نکل کر پورے یورپ میں پھیل گیا اور اب یہ دن باقاعدہ پوری دنیا میں منایا جاتا ہے جس میں ہم مسلمان بھی شریک ہوتے ہیں،

جبکہ یہ مسلمانوں کو دھوکے سے شہید کرنے کی خوشی میں منایا جاتا ہے، یہ تو تھی اس کی تاریخ اب اگر اس کے نقصانات دیکھیں تو وہ اور بھی سنگین ہیں، سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے، اس طرح ایک حدیث رسول میں منافق کی جو نشانیاں بتائی گئی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب وہ بات کرے تو جھوٹ بولے

اس سے یہ بات ظاہر ہوئی کہ جھوٹا شخص ایک تو اللہ کی لعنت کا مستحق ہوتا ہے اور دوسرا وہ ایک طرح سے نفاق کے درجے میں ہوتا ہے، ہمیں چاہیے کہ یکم اپریل کو اپریل فول منانے سے اجتناب کریں اور ذمہ داری کا مظاہرہ کریں، سنی سنائی کوئی بات یا میسج بغیر تحقیق کے آگے نہ بڑھائیں اور اپریل فول کے نام پر منائی جانے والی تمام خرافات سے خدارا دور رہیں اور کوشش کریں کہ اسلامی تاریخ کہ ایک افسوسناک واقع کی بنیاد پر بنائے گئے اس تہوار یا دن کو منانے سے اعتراض کریں۔

واضح رہے کہ تمسخر و استہزاء اسلامی تعلیمات کے منافی ہے۔ شریعت اسلامیہ میں نہ کسی فرد کو دوسرے فرد سے تمسخر کرنے کی اجازت ہے اور نہ کسی جماعت کو دوسری جماعت کیساتھ استہزاء کی اجازت دی گئی ہے۔ مسلمانوں کو مزید احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

لیکن افسوس صد افسوس مسلمانوں پر کہ جنہیں خیر امت کا اعزاز ملا ہے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے یہود و نصاریٰ کی صریح مخالفت کی تاکید کے باوجود آج وہ اپنے ازلی دشمن یہودو نصاریٰ کے جملہ رسم و رواج، طرزعمل اور فیشن کو بڑی ہی فراخ دلی سے قبول کر رہے ہیں جب کہ انہیں اس سے بچنے اور احتیاط کرنے کی سخت ضرورت ہے۔

یہ بات نہایت قابل غور ہے کہ آج کا مسلمان مغربی افکار اور نظریات سے اتنا مرعوب ہوچکا ہے کہ اسے ترقی کی ہر منزل مغرب کی پیروی میں ہی نظر آتی ہے۔ ہر وہ قول وعمل جو مغرب کے ہاں رائج ہوچکا ہے اس کی تقلید لازم سمجھتا ہے قطع نظر اس سے کہ وہ اسلامی افکار کے موافق ہے یا مخالف۔حتی کہ یہ مرعوب مسلمان ان کے مذہبی شعار تک اپنانے کی کوشش کرتاہے۔

اپریل فول بھی ان چند رسوم و رواج میں سے ایک ہے جس میں جھوٹی خبروں کو بنیاد بنا کر لوگوں کا جانی و مالی نقصان کیا جاتا ہے۔ انسانیت کی عزت وآبرو کی پروا کیے بغیر قبیح سے قبیح حرکت سے بھی اجتناب نہیں کیا جاتا۔اس میں شرعاً واخلاقاً بے شمار مفاسد پائے جاتے ہیں جو مذہبی نقطہ نظر کے علاوہ عقلی واخلاقی طور پر بھی قابل مذمت ہیں۔آج یہ دن مغربی دنیا میں مسلمانوں کو ڈبونے کی یاد میں منایا جاتا ہے۔

یہ ہے اپریل فول کی حقیقت! مسلمانوں کا اپریل فول منانا جائز نہیں، کیونکہ اس میں کئی مفاسد ہیں جو ناجائز اور حرام ہیں۔ اس میں غیرمسلموں سے مشابہت پائی جاتی ہے اور حدیث مبارکہ میں ہے(ترجمہ) جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے(سنن ابی داؤد، رقم:4033)۔

تو جو لوگ اپریل فول مناتے ہیں اندیشہ ہے کہ ان کا انجام بروز قیامت یہود ونصاری کے ساتھ ہو۔ایک واضح قباحت اس میں یہ بھی ہے کہ جھوٹ بول کر دوسروں کو پریشان کیا جاتا ہے اور جھوٹ بولنا شریعت اسلامی میں ناجائز اور حرام ہے۔

ایک حدیث مبارک میں تو جھوٹ بولنے کو منافق کی علامت قرار دیا گیا ہے(ترجمہ) منافق کی تین نشانیاں ہیں۔ جب بات کرتاہے تو جھوٹ بولتا ہے، وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرتا ہے(صحیح البخاری، رقم الحدیث:33)۔

یہ بھی پڑھیں: عقیدہ ختم نبوت کیا ہے، ختم نبوت قرآن و حدیث کی روشنی میں

اس دن مذاق میں دوسروں کو ڈرایا دھمکایا بھی جاتا ہے جو بسا اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوتا ہے۔ اس کا اندازا 2 اپریل کے اخبارات سے لگایا جا سکتا ہے۔غرض اس فعل میں کئی مفاسد پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہیے کہ اس قبیح فعل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں اور حکومت وقت کو بھی اس پر پابندی لگانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

اپریل فول کی شرعی حیثیت

تاریخی اعتبار سے یہ رسمِ بد قطعاً اس قابل نہیں کہ اس کو اپنایا جائے، کیونکہ یہ رسم نہ صرف توہم پرستی  سے جڑی ہوئی ہے بلکہ یہمندرجہ ذیل کئی گناہوں کا مجموعہ بھی ہے:

  • مشابہت کفار ویہود ونصاریٰ
  • جھوٹا اور ناحق مذاق
  • جھوٹ بولنا
  • دھوکہ دینا
  • دوسرے کواذیت پہنچانا

ان میں سے ہر ایک پر الگ الگ عنوانات کے تحت مختصر کلام کیا جاتا ہے؛ تاکہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ احادیثِ شریفہ میں ان گناہوں پر کتنی سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔

1. کفار اور یہودونصاریٰ کی مشابہت

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود ونصاریٰ اور کفار ومشرکین کی مشابہت اور بودوباش اختیار کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرمایا ہے، مثلاً: آقا  صلی اللہ علیہ وسلم نے داڑھی رکھنے کا اور مشرکین ومجوس کی مخالفت کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسی طرح یہود کی مشابہت سے بچنے کے لیے دسویں محرم کے ساتھ نویں تاریخ کو روزہ رکھنے کا بھی حکم فرمایا۔

غرض کہ ہر موقع پر آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے غیرقوموں کے طریقہٴ زندگی کو اپنانے سے منع فرمایا ہے۔ اور ان الفاظ میں وعید فرمائی ہے کہ:

من تشبّہ بقوم فہو منہم (مشکوٰة شریف)

یعنی جو شخص کسی قوم سے مشابہت اور ان کے طور طریقے کو اختیار کرے گا اس کا شمار انہی میں ہوگا؛ مگر افسوس کہ غیرقوموں کا طریقہ ہی آج ہمیں پسند ہے۔

حالانکہ ہمیشہ ان لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اذیت دی ہے، آپ کی حیات میں بھی اور وفات ظاہری کے بعد بھی۔ نیز ہمیشہ ان کی کوششیں دین اسلام اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر صرف ہوتی ہیں؛ مگر ہم مسلمان ذرا اس بات پر غور نہیں کرتے اور انھیں کے طور طریقوں میں مگن رہتے ہیں اور اپنے عمل سے اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیف دیتے ہیں۔

2. جھوٹا اور ناحق مذاق

اسلام نے خوش طبعی، مذاق اور بذلہ سنجی کی اجازت دی ہے۔ بارہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ مذاق فرمایا ہے؛ لیکن آپ کا مذاق جھوٹا اور تکلیف دہ نہیں ہوتا تھا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ صحابہٴ کرام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ

ترجمہ: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) آپ تو ہمارے ساتھ دل لگی فرماتے ہیں؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ (میں دل لگی ضرور کرتا ہوں مگر) سچی اور حق بات کے علاوہ کچھ نہیں بولتا۔ (ترمذی شریف)

حضرت عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے مذاق میں دوسرے شخص کا جوتا غائب کردیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: کسی مسلمیان کو مت ڈراؤ (نہ حقیقت میں نہ مذاق میں) کیونکہ کسی مسلمان کو ڈرانا بہت بڑا ظلم ہے۔ (الترغیب والترہیب)

بہرحال حاصل یہ ہے کہ جھوٹے اور تکلیف دہ مذاق کی شریعت اسلامیہ میں کوئی گنجائش نہیں؛ بلکہ اس طرح کا مذاق مذموم ہے۔

3. جھوٹ بولنا

اپریل فول میں سب سے بڑا گناہ جھوٹ ہے؛ جبکہ جھوٹ بولنا دنیا و آخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے۔ نیز اللہ رب العالمین اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔

قرآن کریم میں جھوٹ بولنے والوں پر لعنت کی گئی ہے۔ ارشاد مبارک ہے:
ترجمہ: پس لعنت کریں اللہ تعالیٰ کی ان لوگوں پر جو کہ جھوٹے ہیں۔ (آل عمران آیت)

نیز احادیث شریفہ میں بھی مختلف انداز سے اس بدترین وذلیل ترین گناہ کی قباحت وشناعت بیان کی گئی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس کلمہ کی بدبو کی وجہ سے جو اس نے بولا ہے رحمت کا فرشتہ اس سے ایک میل دور چلا جاتا ہے۔ (ترمذی شریف)

ایک حدیث شریف میں آپ نے جھوٹ کو ایمان کے منافی عمل قرار دیا، حضرت صفوان بن سُلیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیاگیا کہ

ترجمہ:کیا موٴمن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں، (مسلمان میں یہ کمزوری ہوسکتی ہے) پھر عرض کیاگیا کہ کیامسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا: ہاں (مسلمان میں یہ کمزوری بھی ہوسکتی ہے) پھر عرض کیاگیا کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ نے جواب عنایت فرمایا کہ نہیں، (یعنی ایمان کے ساتھ بے باکانہ جھوٹ کی عادت جمع نہیں ہوسکتی اور ایمان جھوٹ کو برداشت نہیں کرسکتا)۔ (موطا امام مالک ص)

حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے فجر کی نماز کے بعد اپنا خواب لوگوں سے بیان فرمایاکہ آج رات میں نے یہ خواب دیکھا کہ دو آدمی (فرشتے) میرے پاس آئے اور میرا ہاتھ پکڑ کر ارضِ مقدس کی طرف لے گئے تو وہاں دو آدمیوں کو دیکھا، ایک بیٹھا ہے اور دوسرا کھڑا ہوا ہے، کھڑا ہوا شخص بیٹھے ہوئے آدمی کے کلّے کو لوہے کی زنبور سے گدّی تک چیرتا ہے، پھر دوسرے کلّے کو اسی طرح کاٹتا ہے۔ اتنے میں پہلا کلاّ ٹھیک ہوجاتا ہے اور برابر اس کے ساتھ یہ عمل جاری ہے۔ میرے پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ:

ترجمہ: بہرحال وہ شخص جس کو آپ نے دیکھا کہ اس کے کلّے چیرے جارہے ہیں، وہ ایسا بڑا جھوٹا ہے جس نے ایسا جھوٹ بولا کہ وہ اس سے نقل ہوکر دنیا جہاں میں پہنچ گیا؛ لہٰذا اس کے ساتھ قیامت تک یہی معاملہ کیا جاتا رہے گا۔ (بخاری شریف)

رسول اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم  نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔ حضرت سفیان ابن اسید حضرمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ترجمہ: یہ بڑی خیانت ہے کہ تو اپنے بھائی سے ایسی گفتگو کرے جس میں وہ تجھے سچا سمجھتا ہو حالانکہ تو اس سے جھوٹ بول رہا ہو۔ (مشکوٰة شریف)

اسی طرح ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ بولنے سے بچنے پر (اگرچہ مذاق سے ہی ہو) جنت کی ضمانت لی ہے۔ حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: میں اس شخص کے لیے جنت کے بیچ میں گھر کی کفالت لیتاہوں جو جھوٹ کو چھوڑدے، اگرچہ مذاق ہی میں کیوں نہ ہو۔ (الترغیب والترہیب)

حضرت بہز بن حکیم اپنے والد معاویہ کے واسطہ سے اپنے دادا حیدہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: جو شخص لوگوں کو ہنسانے کے لیے جھوٹ بولے اس کے لیے بربادی ہو، بربادی ہو، بربادی ہو۔ (ترمذی شریف، ابوداؤد )

مطلب یہ ہے کہ صرف لطف صحبت اور ہنسنے ہنسانے کے لیے جھوٹ بولنا بھی ممنوع ہے۔ آج کل لوگ نت نئے چٹکلے تیار کرتے ہیں اور محض اس لیے جھوٹ بولتے ہیں تاکہ لوگ ہنسیں، انھیں آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد یاد رکھنا چاہیے اور اس برے فعل سے باز آنا چاہیے۔

4. دھوکہ دینا

اپریل فول کی رسم بد میں چوتھا گناہ، مکروفریب ہے؛ حالانکہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم اس گناہ پر سخت الفاظ سے وعید بیان فرمائی ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جو شخص ہم کو (مسلمانوں کو) دھوکا دے اس کا ہم سے کوئی تعلق نہیں۔ (مسلم شریف)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: موٴمنین آپس میں ایک دوسرے کے خیرخواہ اور محبت کرنے والے ہوتے ہیں اگرچہ ان کے مکانات اور جسم ایک دوسرے سے دور ہوں اور نافرمان لوگ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ دھوکے باز اور خائن ہوتے ہیں، اگر ان کے گھر اور جسم قریب قریب ہوں۔ (الترغیب والترہیب)

مطلب یہ ہے کہ ایک دوسرے کے ساتھ دھوکہ بازی اللہ تعالیٰ سے بغاوت کرنے والوں اور نافرمانوں کا عمل ہے، موٴمنین کا عمل تو ایک دوسرے کے ساتھ خیرخواہی کرنا ہے۔ لہٰذا کسی بھی ایمان والے کو دوسروں کے ساتھ دھوکے کا معاملہ نہیں کرنا چاہیے۔

5. دوسرے کو تکلیف دینا

ایک حدیث شریف میں صحیح اور کامل مسلمان اس کو قرار دیاگیا ہے جو کسی مسلمان بھائی کو تکلیف نہ دے؛ بلکہ ہمارا مذہب اسلام تو یہ تعلیم دیتا ہے کہ ایک موٴمن کے ہاتھ وغیرہ سے پوری دنیا کے انسان (مسلم ہو یا غیرمسلم) محفوظ ہونے چاہئیں؛ بلکہ جانوروں کو تکلیف دینا بھی انتہائی مذموم، بدترین اور شدید ترین گناہ؛ بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دوری کا سبب ہے۔

چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے اور صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: کامل مسلمان وہ شخص ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ (بخاری شریف، مسلم شریف)

اسی طرح حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:
ترجمہ: کامل موٴمن وہ شخص ہے جس سے تمام لوگ اپنے خونوں اور مالوں پر مامون و بے خوف وخطر رہیں۔ (ترمذی شریف)

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
ترجمہ: وہ شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے جو کسی موٴمن کو نقصان پہنچائے یا اس کے ساتھ چال بازی کا معاملہ کرے۔ (ترمذی شریف )

مندرجہ بالا تفصیل کا حاصل یہ ہے کہ اپریل فول بہت سارے بدترین گناہوں کا مجموعہ ہے؛ لہٰذا اب ہم مسلمانوں کو خود فیصلہ کرلینا چاہیے کہ آیا یہ رسمِ بد اس لائق ہے کہ مسلمان معاشرہ میں اپناکر اس کو فروغ دیا جائے؟ اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو اس طرح کی تمام برائیوں سے محفوظ فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین!

نوٹ: اس تحریر سے متعلقہ اپنی رائے کے اظہار، مزید معلومات کے حصول اور سوالات پوچھنے کے لیے کمنٹس کیجیے۔ آپ کے ہر سوال ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔ یہ تحریر بے لوث جذبہ خدمت خلق کے تحت شائع کی جا رہی ہے۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو اپنے دوست احباب کو محبت کے ساتھ اِس کے مطالعہ کی ترغیب دینے کے لیے فیس بک اور واٹس اپ پر شیئر کیجیے۔ تاکہ انسانیت کی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے، شکریہ۔

یہاں سے شیئر کریں

2 comments

  • عمران خان

    جناب اسکا حوالہ نہیں ہے حوالہ تو بتادیں

    • ہیلپ اردو

      یہاں پر درج کی گئی تمام آیات اور احادیث کا حوالہ دیا گیا ہے۔ تاہم اگر کسی آیت یا حدیث کا حوالہ رہ گیا ہے تو آپ متعلقہ مواد کی نشاندہی کریں۔ حوالہ فراہم کر دیا جائے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے