پاک چین دوستی، تعلقات اور تاریخ کے حوالے سے مکمل معلومات اردو میں

پاک چین دوستی تعلقات اور تاریخ۔ چائنہ پاکستان دوستی زندہ آباد

پاک چین دوستی

چین اور پاکستان دو ایسے ملک ہیں جو دوستی کے لازوال رشتےمیں بندھے ہوئے ہیں۔ یہ دوستی برسوں پر محیط ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ دنیا میں پاک چین جیسی مخلصانہ دوستی کی کوئی دوسری مثال نہیں ہے۔

اِس دوستی کو 67 سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور آج تک اس میں کوئی دراڑ نہیں آئی، کیونکہ یہ دوستی ہمالیہ سے بلند، سمندر سے گہری، فولاد سے مضبوط اور شہد سے میٹھی ہے۔ اِس کی گہرائی اور اہمیت وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔

کہتے ہیں کہ بچپن کی دوستی بہت مضبوط ہوتی ہے جس میں نہ کوئی غرض شامل ہوتی ہے نہ ہی کسی مقصد کا حصول ، ایسی ہی ایک مضبوط اور لازوال دوستی دودوست ممالک کے درمیان ابتدائی عمر سے قائم ہے ۔جو ہر دکھ سکھ کی گھڑی میں ایک دوسرے کے ساتھ بھائیوں کی طرح کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑے ہوتے ہیں۔

یوں تو پاکستان کے کئی دوسرے ممالک سے بھی دوستانہ تعلقات ہیں لیکن وہ تعلقات حکومتی سطح تک ہی محدود ہیں چین سے دوستانہ، برادرانہ تعلقات کو عوامی سطح پر خاصی پذیرائی حاصل ہے۔ دونوں ملکوں کے عوام ایک دوسرے سے گہرا لگاؤاور مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔

پاکستان اور چین کے درمیان باقاعدہ تعلقات کا آغاز 1950ء میں ہوا۔ پاکستان اسلامی دنیا کا پہلا اور باقی ممالک میں تیسرا ملک تھا۔ جس نے 1950ء کے تائیوان چین تنازے کے فوراً بعد چین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کیا۔ تب سے لے کر آج تک چین اور پاکستان میں کئی حکومتی ادوار آئے، دنیا میں کئی واقعات رونما ہوئے مگر کبھی بھی پاکستان اور چائنہ کے تعلقات میں کوئی فرق نہیں آیا۔

پاکستان اور چین کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی لازوال مثالیں موجود ہیں۔ پاکستان جب بھی کسی مشکل سے دوچار ہوا اور اس نے عالمی دنیا کی طرف نگاہ ڈالی تو جو ملک سب سے قریب تر اور ہمدردنظر آیا وہ چین تھا۔

پاکستان میں کوئی شعبہ زندگی ایسا نہیں کہ جس کے ترقیاتی کاموں کو مکمل کرنے کے لئے چین نے پاکستان کی امداد نہ کی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ شاہراہِ قراقرم سے گوادر کی بندرگاہ تک پھیلے ہوئے میگا پراجیکٹس چین کی مدد سے مکمل کئے گئے اورکئے جا رہے ہیں۔

چین کی بے لوث دوستی کی بدولت آج پاکستان اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے جا رہا ہے۔ شاہراہِ قراقرم سے لے کر پاک چین اقتصادی راہداری تک، الخالد ٹینک سے لے کر جے ایف۔ 17 تھنڈر تک، جدید تربیتی طیاروں کی تیاری سے لے کر دفاعی میزائلوں کے پروگرام تک، ٹیکسلا کی ہیوی انڈسٹری سے لے کر نوشہرہ کی گلاس فیکٹری تک، چین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

عالمی دنیا میں چین نے ہمیشہ پاکستان کی حمایت کی ہے۔ مسئلہ کشمیر پر چینی مؤقف ہمیشہ حکومت پاکستان کے مؤقف کی تائید و حمایت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ بھارت کے ساتھ معاملات طے کرنے کے دوران چین کبھی پاکستان کو نظر انداز نہیں کرتا۔ اور ہمیشہ بھارت کے بجائے پاکستان کو فوقیت دیتا ہے۔ سیلاب اور زلزلہ کے دوران چین پہلا ملک ہوتا ہے جو نہ صرف پاکستان کی مدد کے لئے سب سے پہلے مطلوبہ سامان لے کر پہنچتا ہے۔ بلکہ ریسکیو عملہ کے ساتھ متاثرین کی بھرپور امداد بھی کرتا ہے۔

چین پاکستان کے ہر شعبہ میں نہ صرف سرمایہ کاری کررہا ہے بلکہ اپنے تعاون کی پیش کش بھی کرتا رہتا ہے ۔ چین دنوں ممالک کی عوام کو ایک دوسرے کے قریب لانے کیلئے بھی کوشاں ہے۔ امریکہ ، بھارت اور دیگر ممالک پاکستان کے داخلی معاملات میں ہمیشہ مداخلت کرتے رہتے ہیں۔ جبکہ چین کی یہ اعلیٰ ظرفی و عظمت ہے کہ اس نے کبھی ہمارے داخلی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی اور نہ ہی کبھی حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ میں کوئی کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان اور چین کے مابین قائم لازوال دوستانہ تعلقات اب اس حد تک وسعت اختیار کرچکے ہیں کہ عالمی برداری میں بھی اب پاک چین دوستی کے تذکرے ہونے لگے ہیں۔ یہ دوستی باہمی اعتماد ، بھائی چارے اور احترام کی اس سٹیج پر پہنچ چکی ہے جہاں اب لفظ عدم اعتماد کی بھی قطعی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ عوام کو خوشی ہے کہ پاکستان اور چین صرف اچھے دوست ہی نہیں بہترین پڑوسی بھی ہیں۔

پاک چین تعلقات/دوستی کو مزید فروغ دینے کے لئے دونوں ممالک کو امیگریشن/ویزا کے قوانین میں مزید نرمی کرنا ہو گی۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کو ہر حال میں پایہ تکمیل تک پہنچانا ہو گا۔ دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بتانا ہو گا کہ پاکستان اور چین دو جسم ایک جان ہیں۔

بیرونی سازشوں اور پروپیگنڈہ (Propaganda) سے بچنا ہو گا، کیونکہ جہاں دنیا کے کئی ممالک پاک چین دوستی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں وہیں کچھ ممالک کو یہ دن بدن مضبوط ہوتی دوستی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ اس لیے وہ اِن دونوں ممالک کے تعلقات میں دراڑ ڈالنےمیں ہمہ وقت مصروف رہتے ہیں۔ انشاءاللہ پاک چین دوستی ہمیشہ قائم رہے گی۔ پاک چین دوستی زندہ باد

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے