گوگل کیا ہے۔ گوگل سے متعلق تمام معلومات اردو میں

گوگل کیا ہے۔ گوگل سے متعلق تمام معلومات اردو میں

گوگل دنیا میں انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنی اور سب سے مشہور سرچ انجن ہے۔ آج کے زمانے میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جو کہ گوگل کے بارے میں نہ جانتا ہو۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں معلومات کی رسائی کا آسان ترین ذریعہ گوگل ہے۔ آپ کو کوئی بھی معلومات درکار ہو۔ آپ بس گوگل میں سرچ کریں۔ گوگل ایک سکینڈ سے بھی کم وقت میں معلومات کا ڈھیر لگا دیتا ہے۔

آج کل کے جدید دور میں جہاں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے بے انتہا ترقی کی ہے اور بے شمار ادارے گوگل سے ملتی جلتی خدمات پیش کر رہے ہیں وہاں اب بھی گوگل سب سے آگے ہے۔بلکہ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ پوری دنیا کے ادارے مل کر بھی گوگل کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

گوگل نے یہ  مقام اپنے چلانے والوں کی انتھک محنت اور جذبہ خلوص سے حاصل کیا  ہے۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ گوگل اوپر ہی اوپر جا رہا ہے۔جس وقت گوگل مارکیٹ میں آیا اس وقت انٹر نیٹ کی دنیا پر پر یاہو (Yahoo) اور ایم ایس این (MSN)  کی اجارہ داری تھی لیکن دیکھتے ہی گوگل نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا۔ یہاں تک کہ  مائیکروسافٹ کا بنایا ہوا سرچ انجن بنگ Bing بھی بہت پیچھے رہ گیا۔

گوگل کیا ہے؟

گوگل ایک امریکی عوامی ادارہ ہے۔ جس کے قیام کا مقصد عام صارفین کو انٹرنیٹ پر کسی بھی موضوع پر درکار مواد کو تلاش کرنے کے لیے سرچ انجن مہیا کرنا تھا۔ وقت کے ساتھ ساتھ گوگل نے خود کو بہت تبدیل کر لیا ہے۔

آج کل یہ سرچ انجن کے علاوہ اور بھی کئی مختلف خدمات مہیاء کر رہا ہے۔ ان میں برقی پیغام رسانی(جی میل) ، وڈیو شئیرنگ (یوٹیوب) سوشل نیٹ ورک(گوگل پلس ) اور نقشہ جات (گوگل میپس) کے علاوہ بھی اڑھائی سو سے زائد دیگر خدمات شامل ہیں۔ اسی وجہ سے گوگل کو مقبولیت حاصل ہوئی اور آج یہ دنیا کا سب سے زیادہ استعمال ہونے والا سرچ انجن ہے۔

گوگل کا مرکزی دفتر، جوکہ گوگل پلکس (Google) کہلاتا ہے، ماؤنٹین ویو (Mountain View) کیلی فورنیا (California) میں واقع ہے۔اس کی آمدنی کا سب سے بڑا انحصار انٹرنیٹ اشتہارات (Internet-Advertising) اور چند کمپیوٹر سوفٹ وئیر (Computer-Software) کی فروخت پر ہوتا ہے۔اِس وقت گوگل کے کل ملازمین کی تعداد پچاسی ہزار کے قریب ہے ۔اور اس کے اثاثے 130 بلین ڈالر کے برابر ہیں۔

گوگل جسے دنیا سرچ انجن کے نام سے جانتی ہے دنیا کی سب سے بڑی انٹرنیٹ کمپنی ہے اور یہ انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ مشہور ویب سائیٹ ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں گوگل کا استعمال کیا جاتا ہے۔

گوگل کی بنیاد

جنوری1996ء میں دو افراد لیری پیج اور سرجے برن جو سٹینفورڈ یونیورسٹی کیلی فورنیا میں پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے، اکٹھے ہوئے اور گوگل تحقیق منصوبہ کی بنیاد رکھی۔ اس منصوبہ کا سب سے اہم مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواقع کی درجہ بندی کرنی تھی۔ انہوں نے اپنے سرج انجن کو بیک رب  (BackRub) کا نام دیا اور اس پر اپنی محنت شروع کر دی۔

جلد ہی صارفین گوگل کو اس کے سادہ بناوٹ (Interface) اور تلاش کے بہتریں نتائج کی بدولت پسند کرنے لگے۔2000ء تک اِس نے اپنے آپ کو ایک مستند سرج انجن کی وجہ سے انٹرنیٹ کی دُنیا میں مستحکم کر لیا۔گوگل نے اسی عرصے میں صارفین کے ان الفاظ کو جن کی مدد سے وہ اپنا مطلب تلاش کرتے تھے۔ (Search-Keyword-Ads) کا نام دے کر اشتہارات حاصل کرنا شروع کئے۔

یہ اشہارات صارفین کو اس صفحے پر دکھائی دیتے جہاں وہ تلاش کے نتائج دیکھتے تھے ان اشتہارات کی خوبی یہ تھی کہ یہ صرف لفظوں پر مشتمل ہوتے تھے اور صارفین کی طبعیت پر برا اثر نہیں چھوڑتے تھے۔آج بھی ٹیکسٹ اشتہارات گوگل کی آمدنی کا ایک بڑا ذریعہ ہیں۔

اداروں کی خرید

جوں جوں گوگل ترقی کرتا گیا اس نے دیگر شعبوں میں بھی قدم رکھنا شروع کیے اور چھوٹے موٹے اداروں کو خرید کر ان کی خدمات بھی صارفین کی طرف منتقل کرنے لگا۔

گوگل کا Moto شیطان مت بنو (Don’t be Evil) یہ واضح کرتا ہے کہ ادارہ کا بنیادی مقصد اپنے صارفین کی خدمت کرنا ہے نہ کہ اسے لوٹنا۔ اسی تحرک کو بنیاد رکھتے ہوئے جہاں تک ہو سکا گوگل نے اپنے صارفیں کو مفت خدمات پیش کیں

اور جن اداروں کو خریدا ان میں سے اکثر ایسے تھے جو اپنی مصنوعات صارفین کو فروخت کرتے تھے جیسا کہ کی ہول (Keyhole Inc) کا کمپیوٹر پرگرام ارتھ ویور (Earth-Viewer) جسے ادارہ سمیت گوگل نے خریدا اور اس کا ایک مفت حصہ اپنے صارفین کو مہیا کیا۔

مندرجہ ذیل لسٹ ان اہم اداروں کی ہے جسے وقتاً فوقتاً گوگل نے خریدا اور ان کی مفت خدمات صارفین کو پیش کیں۔

  • اپریل 2003 میں اپلائڈ سمینٹکس (Applied Semantics) نامی ادارے کو دس کروڑ بیس لاکھ ڈالر 102,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت لفظی اشتہارات (AdSense, AdWords) کی وصولی اور تشہیر ہے۔
  • جون 2004 میں بیدو (Baidu) جوکہ چائینز زبان کا سرچ انجن ہے کا 6 فیصد حصہ پچاس لاکھ ڈالر 5,000,000$ کے عوض خریدا۔
  • جولائی 2004 میں پکاسا نامی ادارے کو خریدا۔ یہ ادارہ تصاویرکو ترتیب دینے اور سنورنے کا کاروباری پرگرام بناتا تھا۔ گوگکل نے اسے صارفین کے لیے مفت کردیاہے۔
  • اکتوبر 2004 میں کی ہول نامی ادارے کو خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت ارتھ ویور (Earth-Viewer) نامی پروگرام کی فروخت تھی۔ گوگل نے اسے خرید کر گوگل ارتھ (Google Earth) کا نام دیا اور ایک حصہ صارفین کے لیے مفت کر دیا۔
  • جولائی 2005 میں کرنٹ کیمونیکیشن گروپ (Current Communications Group) نامی ادارے کو دس کروڑ 100,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت تیزرفتار حصول انٹرنیٹ (Broadband internet access) کی فراہمی ہے۔
  • دسمبر 2005 میں مشہور امریکہ آن لائن (AOL) نامی ادارے کا 5 فیصدحصہ ایک ارب ڈالر 1,000,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمات صارفین کو برقی خط کی سہولت اور پیغام رساں (AOL-Messenger) نامی پروگرام کی فراہمی ہے۔
  • مارچ 2006 میں لاسٹ سافٹ وئر (Last Software@) نامی ادارے کو خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت سہ سمتی نمونہ نگاری(3D modeling) پروگرام کا بنانا اور فروخت تھی۔ گوگل نے اسے خرید کر گوگل سکیچ آپ (Google Sketchup) کا نام دیا اور ایک حصہ صارفین کے لیے مفت کر دیا۔
  • اکتوبر 2006 میں مشہور یو ٹیوب نامی ادارے کو ایک ارب ساٹھ کروڑ ڈالر 1,650,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت انٹرنیٹ پر وڈیو کو دیکھنا اور دکھانا ہے (Video-Sharing) گوگل نے اسے مزید بہتر کیا۔
  • اپریل 2007 میں ڈبل کلک (DoubleClick) نامی ادارے کو تین ارب دس کروڑ ڈالر 3,100,000,000$ کے عوض خریدا یہ اب تدصولی اور تشہیر ہے جسے صارف اپنے مقام رابط (Website) پر دکھا سکتا ہے اور گوگل سے اس کے عوض معاوضہ لے سکتا ہے۔
  • جولائی 2007 میں پوسٹنی (Postni) نامی ادارے کو باسٹھ کروڑ پچاس لاکھ ڈالر 625,000,000$ کے عوض خریدا۔ اس ادارے کی اہم خدمت جی میل (Gmail) کی فراہمی ہے۔

مزکورہ دونوں ادارے کافی عرصے گوگل کے ساتھ مقابلہ کرتے رہے اور ان کی پوزیشن تبدیل ہوتی رہی مگر اب گوگل نے انٹرنیٹ کی مارکیٹ میں اپنے آپ کو منوالیا ہے اور مزید کافی عرصے تک اس میدان میں اس کا کوئی مدمقابل دکھائی نہیں دیتا۔

صارفیں کے لیے ایک اچھی بات یہ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گوگل نہ صرف مزید نئے پروگرام جات اور خدمات ان میں متعارف کروارہا ہے بلکہ دوسرے اداروں کو بھی مجبور کررہا ہے کہ وہ اپنی خدمات بہتر بنائیں تاکہ گوگل کا مقابلہ کرسکیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹیلی نار، یوفون، موبی لنک، وارد اور زونگ کے مکمل کوڈز کی فہرست

مثال کے طور پر کچھ سال قبل صارفین ممم کی ایک ایم بی میل بکس استعمال کرنے پر مجبور تھے یاہو پھر بھی غینمت تھا جو پانچ ایم بی میل بکس اپنے صارفین کو دیتا تھا۔

جب گوگل نے جی میل (Gmail) کی سروس شروع کی تو ایک یا پانچ نہیں پورے ایک جی بی میل بکس اپنے صارفین کو فراہم کیا اور اس میں روزانہ مزید اضافہ بھی ہوتا رہا ہے جس کی بدولت اس وقت اضافہ ملا کر میل بکس چھ جی بی سے تجاوز کرچکا ہے۔۔ تو اس کا مقابلہ کرنے کے لیے دوسرے اداروں نے بھی مجبوراً اپنے میل بکس بڑے کردئے۔آجکل ایک مفت جی میل اکاؤنت کے لیے میموری کی گیجائش 15 گیگا بائٹ ہو چکی ہے۔

ایلفابیٹ کا قیام

گوگل اپنے بڑھتے ہوئے دائرہ کار کو مسلسل بڑھانےکے لیے ایک عرصہ سے مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہا ہے ۔ان میں بہت سے پروجیکٹ منافع بخش ہیں لیکن کئی نئے اور اہم پروجیکٹس کے منافع آور بننے میں کئی سال ہیں۔

اس وجہ سے گوگل نے 2015 میں اپنی اتنظامی تقسیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں کرتے ہوئے ایک نئی کمپنی ایلفابیٹ کا آغاز کیا ۔ اب گوگل ایلفابیٹ کا ایک ذیلی ادارہ ہے اور سندر پچائی اس کے سربراہ ہیں۔

گوگل کی دیگر پراڈکٹس

  1. بلاگر (Blogger) : یہ انٹرنیٹ پر بلاگ بنانے کی ایک فری سروس ہے۔
  2. جی میل (Gmail) : ای میل بھیجنے اور وصول کرنے کے لئے جی میل کا استعمال کیا جاتا ہے
  3. گوگل ایڈسینس (google adsense) : یہ گوگل کی ایڈورٹرائزنگ سروس ہے۔ اس سروس کے ذریعے مختلف ویب سائٹس اور یوٹیوب پر اشتہارات لگا کر لوگ پیسے کماتے ہیں۔
  4. گوگل ایڈ ورڈ (google adwords) ایڈ ورڈ سے آپ گوگل سرچ انجن اور مختلف ایڈسننس استعمال کرنی والی ویب سائیٹ پر اپنے اشتہارات دکھا سکتے ہیں۔
  5. گوگل اینا لاتھک (google analytics) :اس ویب سائٹ پر آپ اپنی ویب سائیٹ یا بلاگ کی پرفامس رپورٹ دیکھ سکتے ہیں۔
  6. گوگل کروم (google chrome) : یہ ایک انٹرنیٹ براوز ہے۔ جو کہ گوگل کی طرح مشہور ہے۔ آج کے زمانے میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والا براوز رہے۔گوگل کروم ویب کٹ لے آؤٹ انجن اور درخواست فریم ورک کا استعمال کرتا ہے.
  7. گوگل ارتھ (google earth) بہت ہی اعلی سروس ہے۔
  8. گوگل نیوز (google news) یہ گوگل کی نیوز سائیٹ ہے۔ جو مشہور نیوز ویب سائیٹس سے نیوز جنریٹ کر کے اپنے صارفین کو مہیا کرتی ہے۔
  9. گوگل پلے سٹور (google play store) گوگل پے سٹور سے آپ اپنے موبائل میں سافٹ ویئر، اپلی کیشن، میوزک اور گیمز وغیرہ ڈون لوڈ کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔
  10. گوگل فوٹوز (google photos) یہاں پر اآپ اپنی ذاتی اور ہر طرح  تصاویر کو سیو کر سکتے ہیں۔ اور جب بھی ضرورت ہو تو دوسرے لوگوں کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔
  11. یوٹیوب (Youtube) اس ویب پر آپ اپنی ویڈیو فری میں اپ لوڈ کر سکتے ہو۔ اور دوسرے لوگوں کی ویڈیو دیکھ سکتے ہو۔ یوٹیوب پر نہ صرف آپ ویڈیو اپ لوڈ کر سکتے ہو بلکہ اپنا چینل بنا کر پیسے بھی کما سکتے ہو۔
  12. مائی ایکٹی ویٹی google my activity: یہاں پر آپ اپنے براوزر ہسٹری اور ایکٹیویٹی ٹریک کر سکتے ہو۔
  13. گوگل ویب ماسٹر ٹول (google webmaster tools) اس ٹول کی مدد سے آپ اپنی ویب سائیٹ اور بلاگ کو گوگل سرچ میں ٹاپ پر لا سکتے ہو۔
  14. گوگل ٹرینڈ (google trends) : اس پر گوگل میں سب سے زیادہ  سرچ ہونے والی  ٹاپ 100 کی ورڈ کیوری اور لوگ کیا سرچ کرتے ہیں کے بارے میں انفارمیشن دی جاتی ہے۔
  15. گوگل ٹرانسلیٹر  (google translate) اس ٹول کی مدد سے آپ کسی بھی زبان کا دنیا کی کسی بھی زبان میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔
  16. گوگل پلے میوزک google play music یہ سروس ریڈیو اسٹیشن سننے اور میوزک ڈاؤن لوڈ اور اپ لوڈ کرنے کے لئے ہے۔
  17. گوگل امیج (google images) اس ٹول کی مدد سے آپ کسی بھی موضوع  پر کوئی بھی تصور تلاش کر سکتے ہو۔
  18. گوگل بکس (google books) یہاں پر آپ کو بہت ساری کتابیں مل جائیں گی۔ جہاں آپ آن لائن پڑھ سکتے ہو۔

گوگل کی اڑھائی سو سے زائد پروڈکٹس ہیں، اگر آپ گوگل پراڈکٹس کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں تو یہاں کلک کریں۔

یہ تحریر پڑھ کر آپ کو پتہ چل گیا ہو گا کہ گوگل کیا ہے، گوگل کی بنیاد کس نے رکھی۔ گوگل کی پروڈکٹس کون کون سی ہیں، اگر آپ گوگل سے متعلقہ مذید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو اسے سوشل میڈیا پر شیئر بھی کر سکتے ہیں۔ شکریہ

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے