انسان کا اصل چہرہ – سوشل میڈیا اور ہماری بے غیرتیاں

سوشل میڈیا پر انسان کا اصل چہرہ

چہرہ انسانی جسم کا بہت اہم حصہ ہے، انسان کا چہرہ ہی اس کی شخصیت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ چہرے سے خوبصورتی اور حسن کا پتہ چلتا ہے۔ چہرے ہی کے تاثرات سے انسان کو دوسرے انسان کے مزاج کا اندازہ ہوتا ہے۔

چہرے کے تاثرات ہمارے جذبات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ بدلتے تیور سے جذبات کے اتار چڑھاؤ کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن رویوں کے اظہار کے لئے بعض اوقات چہرے پر چہرہ بھی سجایا جاتا ہے جاپانی کہاوت ہے کہ ہر انسان کے تین چہرے ہوتے ہیں۔

پہلا چہرہ: وہ چہرہ جو آپ دنیا کو دکھاتے ہیں ۔اس چہرے کو آپ خوب چمکا کر رکھتے ہیں۔اس چہرے پر آپ خوش گفتاری اور خوش اخلاقی سمیت جس طرح کی خوبیوں کا ممکن ہو سکے "میک آپ "چڑھا کر رکھتے ہیں۔

دوسرا چہرہ: وہ ہوتا ہے جو آپ اپنے قریبی دوستوں اور حاندان کے سامنے پیش کرتے ہیں ۔اور اس چہرے پر کبھی کبھار تھوڑے کم "میک آپ "سے بھی کام چلا لیتے ہیں۔

تیسرا چہرہ: وہ چہرہ ہوتا ہے جو آپ کبھی کسی کو نہیں دکھاتے۔یہ چہرہ صرف آپ حود اپنے ضمیر کے آئینے میں دیکھ سکتے ہیں ۔یہی آپ کا اصل چہرہ ہوتا ہے۔

اور اگر آپ کا اصل چہرہ (تیسر چہرہ) بدصورت ہے۔ تو لوگ بے شک آپ کو علامہ صاحب ، میاں صاحب، حاجی صاحب ، حافظ صاحب ،شاہ صاحب اور چوہدری صاحب کہہ کر پکارتے رہیں۔ لوگوں کی باتوں میں مت آئیے گا۔ کیونکہ اگر آپ بدصورت چہرے پر اچھا” میک آپ "چڑھا کر لوگوں کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہو گئے ہیں ،تو آپ اچھے اداکار تو ہو سکتے ہیں مگر اچھے انسان نہیں۔اور یہ "میک آپ” میاں نوازشریف کی طرح کسی بھی وقت اتر سکتا ہے۔

اور اگر آپ کا تیسرا چہرہ یعنی کہ اصل چہرہ خوبصورت ہے ۔تو آپ تنہائی میں بھی کسی کے متعلق برا نہیں سوچیں گے۔ آپ تنہائی میں بھی اچھی اور مثبت سوچ کے مالک ہوں گے ۔یعنی آپ کی تنہائی بھی پاک ہے۔

یہ بھی پڑھیں: مثبت اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات

آپ کو لوگوں کو صفائیاں دینے کی بالکل ضرورت نہیں ہے۔ لوگوں کی رائے اپنے مفادات کے پیشِ نظر آپ سے متعلق بدلتی رہے گی۔ لوگوں کے مفادات جب آپ سے وابستہ ہوں تو آپ انہیں فرشتہ نظر آئیں گے اور جب مفادات نہیں ہوں گے تو شیطان۔

اگر آپ حسنِ نیت کے حامل ہیں۔ آپ کا ضمیر آپ کے اصل چہرے کو دیکھ کر شرمندہ نہیں ہوتا۔ تو میرے چاند فکر کی کوئی بات نہیں ہے۔ لوگ بے شک آپ کو "کالا چور” کہتے رہیں لوگوں کی پروا مت کریں۔ آپ صرف۔۔ اپنے تیسرے یعنی باطنی چہرے پر توجہ مرکوز رکھیں۔

اگر آپ کا باطن شفاف ہے تو آپ بہت ہی اچھے انسان ہیں۔ اب تنہائی میں آنکھیں بند کر کے اپنے تینوں چہروں پر غور فرمائیں۔ نتیجہ کوئی بھی آئے پریشان بالکل نہیں ہونا۔

اگرتو تینوں چہرے ایک جیسے ہیں تو بہت خوب ۔۔آپ ٹیسٹ پاس کر گئے ہیں۔۔ اور اگر میری طرح اپنا اصل چہرہ دیکھ کر آپ کا "تراہ” نکل گیا ہے تو بھی فکر کی کوئی بات نہیں ۔انسان کے پاس ہمیشہ وقت ہوتا ہے حود کو سدھارنے کا۔خود کو بدلنے کا۔

تو اگر آپ کو محسوس ہو کہ آپ کی شحصیت میں بہتری کی گنجائش ہے تو اسے بہتر بنانے کی کوشش کیجئے ۔اور اگرآ پ کو لگے کہ آپ ایک مکمل انسان ہو تو اپنی زندگی میں مست رہئیے۔ کیونکہ میں کون ہوتا ہوں آپ کو مشورے دینے والا۔میں تو خود انتہائی بُرا انسان ہوں ۔ ہاں !مگر کو شش ضرور کر رہا ہوں اچھا انسان بننے کی۔

سوشل میڈیا اور ہماری بے غیرتیاں

سوشل میڈیا پر انسان کا اصل چہرہ

سوشل میڈیا ہماری زندگی لازمی حصہ بن چکا ہے اور آپ اگر غور کریں تو یہاں اکثریت مرد و خواتین آپ کو ایسی نظر آئے گی جو بہت مہذب بااخلاق ہوگی، ان کی پروفائل دیکھیں تو بہت ہی اچھی اچھی پوسٹ شئیر کی ہوتی ہے ان سے گفتگو کی جائے تو زبان میں بہت مٹھاس نظر آتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں بے راوی بہت تیزی سے پھیلتی جارہی ہے اور لوگوں کا جنس مخالف کو اپنی طرف راغب کرنے کے لئے ہر طرح کے ہتھکنڈے اپنا رہے ہیں ان میں ایک ہتھکنڈا جو سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ اپنایا جاتا ہے وہ "میٹھی زبان اور جنس مخالف سے ہمدردی ظاہر کرنا ہے”

بہت زیادہ مرد اور کچھ خواتین بھی اس حربے کو استعمال کر کے جنس مخالف کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، ایسے لوگوں کا جھکاو آپ کو ایک طرف نظر آئے مطلب جس مخالف کی ہمدردی میں بولیں گے بات کچھ بھی ہو رہی ہو ایسے لوگ اپنے ہی مشن پر ہوتے ہیں ایسی باتیں کی جائیں کہ کوئی تو ہمارے جال میں پھنس جائے کوئی تو ہم سے متاثر ہو جائے۔ یہ لوگ سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوتے ہیں یہ جنس مخالف کی ہر بات پر ہاں میں ہاں ملائیں گے ۔ جب کہ حقیت یہ ہے کہ اختلاف رائے ہر کسی میں پائی جاتی ہے وہ مرد ہو یا عورت۔

اور جب کوئی ان کی باتوں سے مثاثر ہو کر ان سے تعلق بڑھاتا ہے تو یہ آہستہ آہستہ اپنی اوقات دکھانا شروع کر دیتے ہیں پھر ان کا وہ چہرا سامنے آتا ہے جو وہ کسی کو نہیں دکھاتے اکثر اوقات جب تک ان کے بھیانک چہرے کو انسان پہچانتا ہے ان کے عزائم ظاہر ہوتے ہیں تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ پھر بس پچھتاوا ہی بچتا ہے نتجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارا سب پر سے اعتماد اٹھ جاتا ہے۔

اسلام نے ہمارے لئے حدود مقرر کر دی ہیں، کسی نامحرم سے شریعی وجہ یا مجبوری کے بغیر بات کی اجازت نہیں ہے اور اجازت بھی ایسے ہے کہ جب کسی نامحرم سے بات کریں تو تلخ یا سخت لہجے میں بات کریں تاکہ کسی نامحرم کے دل میں کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو۔

لیکن ہمارا حال الٹا ہے مردوں کو دیکھیں جو اپنے گھر کی محرم عورتوں ماں، بیوی، بہن سے مسکرا کر بات کرنا پسند نہیں کرتے وہ فیس بک پر غیرمحرم خواتین کے آگے جی جی کر رہے ہوتے ہیں کسی کا نام بھی لیتے ہیں تو ساتھ جی لگا کر بہت ہی مہذب اور شائستہ بنے کی کوشش کرتی ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہوتا ہے اگر وہ نامحرم سے تلخ لہجے میں بات کریں گے تو ان کو کوئی گھاس بھی نہیں ڈالے گی۔

پھر خواتین کو دیکھیں تو ان کا بھی غیرمحرم مردوں سے بات کرتے وقت انداز زیادہ مختلف نہیں ہوتا، ساری مٹھاس غیرمحرم سے بات کرتے زبان میں آ جاتی ہے، ایسی خواتین کی تعداد کم ہے لیکن ہے ضرور۔

بعض اوچھی قسم کی خواتین خود اپنا تماشہ بناواتی ہیں مردوں سے فری ہو کر، پھر مرد نازیباں زبان کا استعمال کرتے ہیں تو پھر ان کو برا لگتا ہے اور کچھ خواتین روتی دیکھی ہیں جو کہتی ہیں کہ میں ایسی نہیں تھی بس اس کی باتوں میں آگئی، اس کی باتیں مجھے اچھی لگی، پھر کیا ہوا اس نے اپنے اوقات دکھا دی، بات کمںٹ سے شروع ہوتی ہے پھر ان باکس میں اور اس کے بعد بہت دور تک جاتی ہے جس کا انجام صرف رونا ہی ہوتا ہے، اس لئے پہلے ہی اللہ کی مقرر کردہ حدود سے باہر نہ نکلیں۔

میں یہاں اپنی بات کرتا ہوں آپ لوگوں کو نہیں معلوم کہ میں اپنی عملی زندگی میں کیسا ہوں، یہ میں ہی جانتا ہوں، اتنی لمبی بات کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے سوشل میڈیا پر مجھ سمیت کوئی بھی انجان مرد یا عورت قابل اعتبار نہیں ہے۔

کسی کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں یہاں لوگ ویسے نہیں ہوتے جیسی باتیں کرتے ہیں کسی کی شخصیت کا پتا اس کی عملی زندگی سے ہی چلتا ہے، بعض اوقات انسان کی آنکھوں کے سامنے ہونے والا عمل بھی دھوکہ ہوتا ہے لہذا مرد ہوں یا خواتیں خاص طور پر خواتین کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

فیس بک ہو، گھر ہو یا باہر کی زندگی نامحرم سے دوری بنا کر رکھیں۔ کسی نامحرم سے ہمدردی کی امید رکھنا ہی بیوقوفی ہے اور کسی نامحرم کو بھائی یا بہن کہہ دینے سے بھی وہ نامحرم ہی رہے گا ایسا کر کے آپ خود کو ہی دھوکہ دیں گے اور کچھ نہیں۔

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے