حاملہ خواتین دوران حمل کون سے غذا کا استعمال کریں

حاملہ عورت کی غذا

صحت کی بہتری کے لئے ہر انسان کو ہر حالت میں صحت بخش غذا کی ضرورت ہوتی ہے لیکن حاملہ خواتین کےمعاملے میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے ہاں دوران حمل خواتین کو جو مسئلہ سب سے زیادہ درپیش ہوتا ہے وہ خون کی کمی کا ہے۔

یہی خون کی کمی آگے جاکر بچے کی نشونما کو بھی متاثر کرتی ہے۔خون کی کمی کی بنیادی وجہ خوراک میں آئرن کی کمی یا اچھی خوراک نہ لینا ہوتا ہے۔

دوران حمل مختلف قسم کی خوراک سے خواتین نا صرف خود کو صحت مند رکھ سکتی ہیں بلکہ ان کے شکم میں پرورش پانے والے بچے کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچ سکتا ہے اور اس کی صحیح نشوونما ہو سکتی ہے۔

حاملہ عورتوں کو صحت مند رہنے کےلئے اور زچگی کی طاقت پیداکرنے کےلئے اضافی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر حاملہ عورت کو چاہیے کہ وہ عام دنوں سے زیادہ کھائے کیونکہ ماں کی صحت اور بچے کی نشو ونما کے لئے بھی ضروری ہے۔دن میں تین دفعہ کھانا کھائیے۔ ہر کھانے پر روٹی اور سالن کی دگنی مقدار استعمال کریں۔

یہ بھی پڑھیں: ہونٹوں کو خوبصورت، دلکش، نرم و ملائم اور گلابی بنانے کے طریقے

حمل کے مثبت نتائج کیلئےنہ صرف دوران حمل بلکہ حاملہ ہونے سے کم از کم چار ماہ پہلے اچھی اور صحت مند غذا کا استعمال شروع کر دینا چاہیے۔ اور مضر صحت اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے۔

حاملہ خواتین کی صحت بخش غذا کا مطلب یہ ہوتا کہ وہ درج ذیل اقسام کی غذاؤں میں سے روزانہ مختلف غذا کھائیں، اس طرح انہیں اپنے بچے کے لیے اور خود اپنے لیے ضرورت کے مطابق مقویات اور معدنیات حاصل ہو سکیں گے۔

دوران حمل صحت بخش غذا کھانا اور لگاتار جسمانی ورزش کرنا آپ اور آپ کے نشوونما پانے والے بچے کے لیے بہت اہم ہے۔ اس سے نہ صرف آپ صحت مند ہوتی ہیں بلکہ آپ کے بچے کی افزائش میں مدد ملتی ہے نیز صحت مند وزن والا بچہ ملتا ہے اور آپ کی بلڈ شوگر کنٹرول میں آتی ہے۔

اس تحریر میں ہم آپ کو بتائیں گے کہ حاملہ عورت کی غذا کیا ہے؟ دوران حمل خواتین کو کون کون سی غذاؤں کا استعمال کرنا چاہیے۔ حاملہ عورتوں کے لئے بہترین خوراک کون سی ہے۔ حمل کے دوران کھانے میں کیا کیا احتیاطیں کرنی چاہیں، یہ سب اور بہت کچھ۔۔۔

دوران حمل پھلوں اور سبزیوں کا استعمال

پھل اور سبزیاں وٹامین اور معدنیات کے اچھے ذرائع ہیں۔ پتے والی سبزیوں میں بھرپور مقدار میں فولک ایسڈ پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے جنین عصبی نلی کی خرابی (دماغ اور ریڑھ کی ایک قسم کی پیدائشی خلاف معمول حالت) سے متاثر ہونے سے محفوظ رہتا ہے۔

حاملہ خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی خوراک میں پھل اور سبزیوں کا استعمال سب سے زیادہ کریں۔ کیونکہ پھل اور سبزیوں میں بہت سے وٹامن ہوتے ہیں ۔ جو انسانی صحت کے لئے بہت ضروری ہیں۔ روزانہ تین طرح کے پھل ہر حال میں کھانا چاہیں۔اس سے نظام انہظام درست رہتا ہے اور قبض بھی نہیں ہوتی۔

علاوہ ازیں حاملہ عورتوں کو چاہیے کہ وہ مناسب مقدار میں وٹامن سی کا استعمال بھی کریں۔ وٹامن سی اسٹرابیری، ٹماٹر اور سیاہ منقہ وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ یہ وٹامن سنگترے ، کینو، مالٹے ، چکوترے اور انناس کے رس میں بھی ہوتا ہے۔ یاد رکھیں پھل جو بھی کھائیں لیکن اچھی طرح دھو کر کھائیں۔

نارنجی اور کیوی جیسے پھلوں میں موجود وٹامین سی آئرن جذب کرنے میں آپ کے جسم کی مدد کرتی ہے۔ رنگین ترکاریوں اور پھلوں میں بھرپور کروٹین پائی جاتی ہے جو مناسب وٹامین اے حاصل کرنے میں آپ کی مدد کرتی ہے، جیسے کدو، ٹماٹر، اور تمام گہرے ہرے رنگ کی ترکاریاں وغیرہ۔

حاملہ خواتین کےلیے نشاستہ سے بنی غذاؤں کا استعمال

پھل اور سبزیوں کے بعد روٹی ، چاول، بریڈ، سویاں،نوڈلز ، اناج،آلو، اروی، رتالو،شکر قندی ا ورنشاستے دار اشیاء کا نمبر آتا ہے۔ان غذاؤں سے توانائی حاصل ہوتی ہے اور ان میں معدنیات اور وٹامنز ہوتے ہیں۔ جو انسانی صحت کے لئے ضروری ہوتے ہیں۔

اور خاص کر حاملہ عورتوں کو ہر کھانے میں ان اشیاء میں سے کچھ نہ کچھ ضرور کھانا چاہیے۔ کھانے کے لئے زیادہ ریشے دار اشیاء کا انتخاب کیا جائے۔اور جب بھی جہاں تک ممکن ہوچکی کا آٹا استعمال کریں اور روٹی بغیر چھنے ہوئے آٹے کی بنائیں۔

اناج: چاول، پاستہ یا روٹی سے آپ کو توانائی نیز وٹامین بی گروپ ملتے ہیں۔ سالم اناج والی غذائیں وٹامین اور غذائی نشاستہ سے بھرپور ہوتی ہیں جو آپ کو قبض سے بچاتی ہیں۔ سالم اناج کی مصنوعات منتخب کریں، جیسے خالص چاول یا میدے والی روٹی کی جگہ بھورا چاول، سالم گیہوں کی روٹی یا جو وغیرہ

حاملہ خواتین کے لئے پروٹین والی غذاؤں کا استعمال

اگلے زمرے میں گوشت، مرغی ، مچھلی، انڈا، مٹر، خشک پھلیاں، اخروٹ اور دالیں وغیرہ شامل ہیں۔ ان میں پروٹین ، فولاد اور وٹامنز ہوتے ہیں جو بچوں کی نشوونما میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین کے لئے بھی ضروری ہیں۔

اس کے علاوہ ایسی غذاؤں کا استعمال کیا جائے ، جن سے فولاد جذب کرنے میں مدد ملے ۔گوشت پکاتے ہوئے کم سے کم تیل یا چکنائی کا استعمال کریں۔ اور کوشش کریں کہ گوشت اچھی طرح پکا ہوا ہو۔

پروٹین، آئرن اور وٹامین بی 12 حاصل کرنے کے لیے اپنی غذا میں بغیر چربی کے گوشت اور مرغی نیز متعدد گوشت کا انتخاب کریں۔

دوران حمل ڈیری سے متعلقہ اشیاء کا استعمال

حاملہ خواتین کو اپنی خوارک میں دودھ، پنیر اور دہی کا استعمال بھی کرنا چاہیے۔ کیونکہ ان میں کیلیشم اور وٹامن ڈی ہوتا ہے جو ہڈی اور دانتوں کے لیے ضروری ہے۔ کوشش کریں کہ روزانہ ایک بڑا گلاس دودھ پئیں۔

دیگر اشیاء جن میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے ان میں سویابین کا دودھ، سویابین کی پنیر اور تل وغیرہ شامل ہیں۔یہ بھی خوارک کا لازمی جزو ہونا چاہیے۔ بس کوشش کرنی چاہیے کہ یہ اشیاء کم چکنائی والی ہوں۔

دیگر غذائیں جو حاملہ خواتین کے لیے ضروری ہیں

جو خواتین گوشت نہیں کھانا چاہتیں، انہیں چاہیے کہ وہ گولیوں کی شکل میں وٹامن بی 12 ضرور لیں۔ کیونکہ یہ وٹامن سبزیوں ، دلیے، اور دالوں میں نہیں ہوتا ہے۔

اگر خون کی کمی ہو تو ڈاکٹر کے مشورے سے فولاد کی گولیاں استعمال کریں۔ فولک ایسڈ حمل کے دوران بہت اہم ہوتا ہے۔ یہ مختلف غذائی اشیاء میں پایا جاتا ہے

خواتین کو چائیے کہ حمل کے پہلے بارہ ہفتوں میں فولک ایسڈ کی گولیاں کھائیں اور باقی مدت میں غذا سے یہ وٹامن حاصل کریں۔ مثال کے طور پر ناشتے میں کھائے جانے والے دلیے، گوشت اور سبزیوں کا رس، پالک ، نارنجی، لوبیہ ، آلو، بند گوبھی اور پھول گوبھی وغیرہ میں فولک ایسڈ موجود ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: رنگ گورا کرنے کے آسان اور آزمودہ گھریلو ٹوٹکے

حاملہ خواتین کو بہت زیادہ چکنائی اور شکر آمیز اشیاء سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر یہ اشیاء کھائیں بھی تو کم مقدار میں کھائیں ۔ یہ بات بھی یاد رکھیں کہ سورج کی کرنیں جسم پر پڑتی رہیں تو ہمارے جسم کو اپنی ضرورت کے مطابق کافی مقدار میں وٹامن ڈی حاصل ہو جاتا ہے۔

دوران حمل کھانے میں احتیاطیں

حاملہ خواتین کو بعض غذائی اشیاء سے اجتناب کرنا چاہیے کیونکہ ان سے ان کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ و ہ غذائی اشیاء درج ذیل ہیں۔

  • وہ نرم آئسکریم جو مشینوں سے نکلتی ہے اور کون کی شکل میں بکتی ہے۔ نہ کھائیں۔
  • کچا دودھ استعمال نہ کریں۔ البتہ جراثیم سے پاک کیا ہوا دودھ صحیح ہے۔
  • نرم پنیر یا بھیڑ ،بکری کے غیر پاسچر شدہ دودھ سے بنی ہوئی پنیر نہ کھائیں۔
  • گوشت ، مرغی اور مچھلی کو اچھی طرح پکا کر کھائیں۔ اور اطمینان کر لیں کہ ان کے پکنے میں کوئی کثر رہ تو نہیں گئی۔
  • ایسی غذانہ کھائیں جس میں کچے انڈے ڈالے گئے ہوں، انڈا ایسا کھائیں جس کی زردی سخت ہو چکی ہو۔
  • کھانے کی تیاری یا کھاتے وقت اچھی طرح ہاتھ دھو لیں۔ خاص کر کچا گوشت چھونے کے بعد ہاتھ اچھی طرح سے دھو لیں۔
  • حاملہ خواتین کو خالی پیٹ نہیں رہنا چاہیے اور تھوڑا تھوڑا کر کے دن میں کئی مرتبہ کھانا چاہیے۔
  • مرغن اور مسالے دار غذا سے پرہیز کریں اگر دودھ سے رغبت نہ ہو تو دہی، پنیر اور ایسی غذا کھائیں جن میں دودھ شامل ہو۔
  • چائے ، کوفی یا سافٹ ڈرنکس کے بجائے پانی، دودھ، پھلوں کے رس اور ایسے مشروبات پر زور دیں جن میں شکر شامل نہ کی گئی ہو۔
  • چہل قدمی کریں اور رات کا کھانا جلدی کھائیں۔ دن میں ایک یا دو گھنٹے آرام ضرور کریں۔
  • چکنے، مسالے دار اور بہت زیادہ میٹھے کھانوں سے پرہیز کریں، اس طرح سینے کی جلن سے بھی بچا جا سکتا ہے اور وزن کو قابو میں رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔
  • چینی ملی ہوئی غذا اور ٹھوس چربی، جیسے تلی ہوئی غذا، پانی ملا کر تیار کردہ نوڈلز، آئس کریم، کینڈی، بسکٹ، فواکہ، سافٹ ڈرنک یا سوڈا کا استعمال کم سے کم کریں کیونکہ ان غذاؤں میں کیلوری زیادہ اور مغذیات کم پائی جاتی ہیں
  • بچے کی پیدائش کے بعد بھی صحت بخش غذا کا استعمال جاری رکھیں۔
  • نمک کم استعمال کریں۔ اور وافر مقدار میں پانی پیئیں۔
  • زیادہ دیر تک کھڑے ہوکر کام نہ کریں۔نیز بھاری بوجھ اٹھانے سے پرہیز کریں۔
  • اگر آپ نے ان ہدایات پر عمل کیا اور انہیں اپنی زندگی کا معمول بنا لیا۔تو یقین کریں آپ کے آنگن میں کھلنے والا پھول نہ صرف صحت مند ہو گا بلکہ آپ کی صحت بھی پہلے سے کئی گنا اچھی ہو جائے گی۔

مغذیات کا استعمال

مختلف انواع و اقسام کی غذائیں کھا کر، آپ کو ایسی مغذیات ملتی ہیں جن سے آپ کے بچے کی نشوونما کو تقویت ملتی ہے اور آپ زندگی سے بھرپور رہتی ہیں۔ یہاں پر ہم آپ کو بتائیں گے کہ وہ اہم مغذیات کیا ہیں جن پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے؟

1 فولک ایسڈ:

فولک ایسڈ خون بننے اور خلیہ کی افزائش کے لیے اہم ہے۔ یہ بچے کی معیاری نشوونما کے لیے ضروری ہے اور حمل کے پہلے ہفتے کے دوران کچھ پیدائشی نقائص کو روکنے کے لیے اس کی ضرورت پڑتی ہے،

عصبی نلی کی خرابی میں خواتین کو یہ صلاح دی جاتی ہے کہ وہ حمل کے پہلے مہینے کے دوران حمل کے لیے فولک ایسڈ کے تکملات استعمال کریں۔ ان خواتین کے لیے بھی اس کی سفارش کی جاتی ہے جو حاملہ ہونے کی کوشش کررہی ہیں۔

2 آیوڈین

حاملہ خواتین کے لئے مناسب آیوڈین کا استعمال جنین کے دماغ کی افزائش اور نشوونما کے لیے ضروری ہے۔ اگرچہ مچھلی، سمندری غذا اور دودھ آپ کو آیوڈین فراہم کرتے ہیں، لیکن ان سے حمل کے دوران کی اعلی ضرورت پوری نہیں ہوسکتی ہے۔ آپ کو پیدائش سے قبل کی وٹامین اور معدنی تکملہ لینے پر غور کرنا چاہیے۔

3 وٹامن ڈی

کیلشیم جذب کرنے یا ہڈیوں کو مضبوط کرنے کے لیے حاملہ خواتین کے جسم کو وٹامین ڈی کی ضرورت پڑتی ہے۔ مرغن مچھلی، انڈے اور مضبوط کردہ دودھ جیسی غذائیں صرف محدود مقدار میں وٹامین ڈی فراہم کرتی ہیں۔
وٹامین ڈی دھوپ میں جلد کے نیچے تیار ہوتی ہے۔ جن خواتین کی جلد زیادہ گہری ہے، جو اپنے جسم کے اکثر حصے کو کپڑوں سے ڈھکی رہتی ہیں یا اکثر اوقات گھر کے اندر رہتی ہیں، ان میں وٹامین ڈی کی کمی کا خطرہ ہوتا ہے جس سے ان کے بچے کی ہڈیوں پر اثر پڑ سکتا ہے۔

4 آئرن

حاملہ ہونے پر آپ کو اضافی آئرن کی ضرورت پڑتی ہے۔ بہترین ذرائع بغیر چربی والے گوشت، مچھلی، گہرے ہرے رنگ کی پتے دار ترکاریاں، خشک پھلی، اور آئرن ملے ہوئے ناشتے کے اناج ہیں۔
وٹامین سے بھرپور پھل اور ترکاریوں والا کھانا یا ہری پتے دار ترکاریوں کے ساتھ گوشت یا مچھلی کھانے سے آئرن کی مقدار کو بڑھانے میں مدد ملتی ہے۔ اپنے کھانے کے ساتھ چائے اور کافی پینے سے بچیں کیوں کہ ان سے آئرن کو جذب کرنے میں کمی آتی ہے۔

5 اومیگا تھری – چربیلا تیزاب

اومیگا تھری – چربیلا تیزاب میں ڈی ایچ اے (DHA) اور ای پی اے (EPA) ہوتی ہیں۔ ڈی ایچ اے آپ کے جسم کے دماغ اور آنکھوں کی نشوونما کے لیے اہم ہے۔ سن بیج، اخروٹ اور کینولا تیل اومیگا – 3 – چربیلا تیزاب کے اچھے ذرائع ہیں۔ آپ لگاتار مرغن مچھلی کھانے سے ڈی ایچ اے حاصل کرسکتی ہیں۔ اگر آپ مچھلی نہیں کھاتی ہیں، تو آپ ڈی ایچ اے پر مشتمل تکملہ لینے پر غور کرسکتی ہیں۔

حمل کے دوران خوراک کے ساتھ ساتھ سرگرم رہنے کے بہت سارے فائدے ہیں۔ اس سے حمل کی تکالیف کو کم کرنے، مزاج کو بہتر رکھنے، نیند، اور وزن میں مناسب اضافے کو بڑھاوا دینے میں مدد ملتی ہے۔ روزانہ کم سے کم 30 منٹ جسمانی سرگرمی انجام دیں۔

نوٹ: حاملہ عورت کی غذا متعلقہ یہ تحریر محض معلومات عامہ کے لئے شائع کی جا رہی ہے۔ یاد رکھیں ہر ٹوٹکہ ہر انسان کےلئے نہیں ہوتا۔ اِس لئے اپنے تئیں کوئی نسخہ مت آزمائیں، بلکہ اپنے معالج (ڈاکٹر، طبیب) سے مشورہ کر کے اس کی ہدایت کے مطابق عمل کریں، شکریہ۔

حاملہ عورت کی خوارک و غذا اور حمل کے دوران خوارک کے استعمال سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ متذکرہ بالا تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتی ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتی ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے