چھوٹی عمر میں شادی کرنے کے حیرت انگیز فوائد

چھوٹی عمر یعنی کم عمری میں شادی کرنے کے فوائد

شادی ایک ایسا سماجی بندھن ہے جسے ہر انسان خواہ وہ مرد ہو یا عورت سب نے ہر حال میں سرانجام دینا ہوتا ہے۔ تاہم چھوٹی عمر (کم عمر) میں شادی کرنے کے بہت سے حیرت انگیز فوائد ہیں۔ جن کی تفصیل بذیل ہے۔

اس تحریر میں ہم بات کریں گے کہ چھوٹی یعنی کم عمر میں شادی کرنے کے فوائد کیا ہیں؟ لڑکی اور لڑکے کی شادی کے لیے بہترین عمر کونسی ہے؟ نوجوانی میں شادی کرنا کیوں ضروری ہے۔ کم عمری کی شادی کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے؟

کم عمری میں شادی کرنے کے فوائد

  1. جلدی شادی کرنے کی صورت میں بچے جلدی ہو جاتے ہیں اور انسان ابھی جوان ہی ہوتا ہے جب اس کی اولاد بھی اس کے کندھے کے برابر آجاتی ہے۔ اپنی درمیانی عمر میں اولاد کو جوان ہوتا دیکھ کر انسان بہت خوش رہتا ہے۔
  2. اگر لڑکے یا لڑکی کی شادی جلدی کر دی جائیں تو انہیں ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے کافی وقت مل جاتا ہے۔
  3. اگر شادی جلدی کی جائے تو انسان میں توانائی زیادہ ہوتی ہے اور وہ پہلے سے زیادہ محنت سے یکسو ہوکر کام کرتا ہے اور ادھر اُدھر اس کا دھیان بھی نہیں بٹتا۔
  4. نوجوانی میں اولاد ہونے کی وجہ سے انسان اپنی اولاد کی بہتر پرورش کرپاتا ہے۔
  5. جلدی شادی ہونے کی وجہ سے ذمہ داریوں میں اضافہ ہو جاتا ہے اور انسان یکسوئی کے ساتھ محنت کرتا ہے اور اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے دن رات ایک کردیتا ہے کیونکہ اسے علم ہوتا ہے۔کہ ہر صورت میں اسے اپنے گھر کو چلانا ہے اور وہ اپنے کیریئر کی طرف بہتر طریقے سے توجہ دے پاتا ہے۔
  6. ازدواجی تعلقات میں جنسی عمل کا بہت زیادہ عمل دخل ہے،اگر دیر سے شادی کی جائے تو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جنسی طاقت میں کمی آتی رہتی ہے اور شادی شدہ زندگی بُری طرح متاثر ہوتی ہے لیکن اگر شادی جلدی کی جائے تو ایسے مسائل پیدا نہیں ہوتے۔
  7. آج کل کے دور میں کم عمر کے لڑکے اور لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہے، جن میں سرفہرست خود لذتی ہے۔ جس کی وجہ سے بہت سی جسمانی اور روحانی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ جن سے جان چھڑانا کئی مرتبہ بہت مشکل اور بعض صورتوں میں ناممکن ہو جاتا ہے۔کم عمر میں شادی کرنے سے بچے ان اخلاقی سرگرمیوں سے بچ جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: کامیابی کا راز محنت میں پوشیدہ ہے

نوٹ : کم عمر میں شادی کرنے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بچوں کی شادی بالکل چھوٹی عمر میں کر دی جائے، شادی کے لیے لڑکے کی عمر کم از کم اٹھارہ سال اور لڑکی کی سولہ سال ہونی چاہیے۔ تاہم لڑکی کی شادی کی بہترین عمر 20 سال اور لڑکے کی 25 سال ہے۔

چھوٹی عمر کی شادی اور اسلام

قرون اولیٰ (دورِ رسالت) کے مسلمانوں میں کم عمری کی شادی کا تصور عام تھا، جس کا منطقی نتیجہ ایک صحت مند اور انہتائی صاف ستھرے معاشرے کی شکل میں ظاہر ہوا۔ قرون اولیٰ کی بعض ممتاد صحابیات جن کی کم عمری میں شادی ہوئی، درج ذیل ہیں:

  • اُم المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
  • اُم المومنین حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا
  • حضرت فاطمہ اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا
  • حضرت اُم کلثوم بنت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہا

یہ بھی پڑھیں: شادی کرنے کے فوائد، شادی کرنے سے مرد اور عورت کو کیا فائدہ ہوتا ہے

اگر قرون اولیٰ کے مسلمان اس شادی کو جائز اور درست سمجھتے اور اس پر عمل پیرا تھے تو آج کے مسلمان کم عمری کی شادی کو اپنے لیے عیب کیوں سمجھتے ہیں۔

اس تحریر کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے