یقین کیا ہے کامیابی اور ناکامی میں یقین کا کردار

یقین

کامیابی اور ناکامی کا دارومدار یقین پر ہوتا ہے۔ یقین کامل کامیابی کی کنجی (چابی ) ہے۔ کوئی بھی چیز حاصل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ کو یقین ہو کہ آپ اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی وہی کچھ ہے جو آپ یقین کرتے ہیں۔ لہذا کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ کیونکہ آپ جیسا یقین کرتے ہیں ویسے ہی ہو جاتا ہے۔

یقین کیا ہے۔

یقین کا مطلب اللہ کی ذات پر مکمل بھروسا اور اطمینان ہے۔کوئی بھی شخص خواہ وہ کسی بھی مذہب کا ہو اس کا اپنے معبود پر یقین ہی اس کےمذہب کو زندگی بخشتاہے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ جیسا یقین کرتے ہیں ویسا ہی ہوتا ہے۔

یقین سے متعلقہ تجربات

اس مفروضے کو جانچنے کے لیے ایک دلچسپ تجربہ کیا گیا۔ سزائے موت کے قیدی کو کہا گیا کہ اسےپھانسی پر لٹکانے کے بجائے سانپ سے ڈسایا جائے گیا۔ چنانچہ قیدی کو لایا گیا اور اس کی آنکھوں پر پٹی باھند دی گئی۔اوردو سویاں بیک وقت اس کے جسم میں اس طرح چبھوئی گئیں جیسے سانب ڈنگ مارتا ہے۔

اس وقت سب کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ شخص تڑپ تڑپ کر مر گیا۔ یہ سب اس شخص کے ساتھ اس لیے ہوا کہ اس شخص کو یقین ہو گیا تھا کہ جب سانپ مجھے کاٹے گا تو میں مر جاؤں گا، اور اسی یقین نے اس کی جان لے لی۔

اسی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے ایک اور تجربہ کیا گیا۔ ایک ہسپتال میں 2 ایک جیسی تکلیف والے مریضوں کا انتخاب کیا گیا۔ جن کے لیے ڈاکٹروں نے آپریشن تجویز کیا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک کا آپریشن کیا گیا اور دوسرے کو صرف چیرا لگا کر سلائی کر دی گئی۔

کچھ دنوں کے بعد جب دونوں کے درد کا موازنہ کیا گیا تویہ ناقابل یقین انکشاف ہوا کہ دونوں کو ایک جیسا آرام آ چکا تھا۔اس کی وجہ یہی تھی کہ جس کو صرف چیرا لگا تھا اسے بھی یقین ہو گیا تھا کہ اس کا آپریشن ہو چکا ہے۔ اب اسے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

قحط سالی کے دنوں میں ایک مسجد سے علان ہوا کہ کل فلاں مقام پر نماز استسقاء (بارش طلب کرنے کے لیے پڑھی جانے والی نماز) پڑھی جائے گی۔ دوسرے دن گاؤں کے سب لوگ نماز پڑھنے کے لیے آئے اور ایک شخص چھتری لے کر آیا۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ چھتری لے کر کیوں آیا، کیوں کہ اسے یقین تھا کہ نماز استسقاء کی وجہ سے بارش ہو جائے گی۔ یہ ہوتا ہے یقین کامل۔

مولانا اور دیہاتی کے یقین کا واقعہ

یہاں پر مجھے ایک اور واقعہ یاد آ رہا ہے۔ کسی شہر میں ایک مولانا صاحب جمعے کا خطبہ دیا کرتے تھے۔ ان کے خطبہ سننے کے لیے دور دور سے لوگ آیا کرتے تھے۔ مولانا صاحب کی باتوں میں ایسا جادو تھا کہ سب مسحور ہو رہ جاتے ۔ دور دور سے آنے والوں میں ایک دیہاتی بھی تھا جو ان کا بہت بڑا عقیدت مند تھا۔

اس کا گاؤں شہر سے کافی دور تھا۔اور راستے میں ایک دریابھی تھا۔ کشی کے انتظار اور دریا عبور کرنے میں اسے کئی گھنٹے لگتے۔ چنانچہ جمعے کو مولانا صاحب کا خطبہ سننے کے لیے وہ منہ اندھیرے ہی گاؤں سے روانہ ہوجایا کرتا تھا۔

ایک دن مولانا صاحب نے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا۔ کہ اگر انسان کو خدا کی ذات پر مکمل یقین ہو۔ تو وہ بسم اللہ پڑھ کر ہر کام کر سکتا ہےحتیٰ کہ اگر وہ بسم اللہ پڑھ کر دریا میں اتر جائے تو دریا بھی اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے۔ دیہاتی کو مولانا صاحب کی ہر بات پرمکمل یقین تھا۔ وہ خوش تھا کہ اب اسے کشتی کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا بلکہ وہ بسم اللہ پڑھ کر دریا عبور کر لیا کرے گا۔

چنانچہ واپسی پر اس نے بسم اللہ پڑھی اور دریا میں اتر گیا اور بسم اللہ پڑھتے ہوئے آسانی کے ساتھ دریا پار کر لیا۔ اب وہ ہر جمعے بسم اللہ پڑھتے ہوئے آسانی کے ساتھ دریا پار کر لیتا اور مولانا صاحب کو ڈھیروں دعائیں دیتا۔

دیہاتی کے دل میں مولانا صاحب کی محبت اور عقیدت کادریا جوش مارنے لگا تو اس نے مولانا صاحب کو اپنے گھر کھانے پر بلایا۔ مولانا صاحب نے دیہاتی کی دعوت قبول کر لی اور جمعے کی نماز کے بعد دونوں دیہاتی کے گھر کی طرف روانہ ہوئے ۔ دریا کے قریب پہنچے تو وہاں کوئی کشتی موجود نہ تھی۔ مولانا صاحب نے پوچھا کہ کشتی کب آئے گی۔

دیہاتی نوجوان نے کہا: مولانا صاحب کشتی کی کیا ضرورت ہے۔آپ نےہی تو بتایا تھا کہ اگر انسان کو خدا کی ذات پر مکمل یقین ہو۔ تو وہ بسم اللہ پڑھ کر ہر کام کر سکتا ہےحتیٰ کہ اگر وہ بسم اللہ پڑھ کر دریا میں اتر جائے تو دریا بھی اس کے لیے راستہ بنا دیتا ہے۔یہ کہہ کر اس دیہاتی نے بسم اللی پڑھی اور دریا عبور کر گیا۔

مولانا صاحب نے جب یہ دیکھا تو پریشان ہو گئے۔ کبھی سوچتے کے بسم اللہ کا ورد کروں اور دریا میں اتر جائیں اور کبھی دریا کی لہروں کی تغیانی کو دیکھتے ہوئے ڈر جاتے۔ کافی سوچ بچار کے بعد انھوں نے پاس کے درخت کے ساتھ رسی کا ایک سرا باھندا اور اس کا دوسرا سرا اپنے ہاتھ میں لیا اوربسم اللہ کا ورد کرتے ہوئے دریا میں قدم رکھ دیا۔

مولانا صاحب پہلے قدم پر ہی ڈگمگا پڑے اور دریا کی لہروں نے مولانا صاحب کو اپنی آغوش میں لے کر ہمیشہ ہمیشہ کی نیند سلا دیا۔ یہ واقعہ پڑھ کر آپ کو یقین کامل کی طاقت کا علم ہو گیا ہو گا۔

انعام میں یقین کا کردار

کیا آپ جانتے ہیں کہ پہلا انعام ذہین کو نہیں بلکہ یقین کو ملتا ہے۔اس لیے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی ذات اقدس پر پورا یقین رکھیں۔کیونکہ ہر اچھے کام میں اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے۔

اس لیے یقین کامل بنا لیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے آپ ہر چیز کر سکتے ہیں۔ ہر مقصد میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں آپ جو کچھ کر رہے ہیں اگر آپ کو اس میں ناکام ہونے کا ذرہ سا بھی شک ہے۔ تو وہ کام نہ کریں ۔کیونکہ آپ ناکام ہو جائیں گے۔

کامیابی میں یقین اور توقع کا کردار

آپ جس چیز کی توقع کرتے ہیں وہی حاصل کرتے ہیں۔ اگر آپ معجزے کی توقع کریں گے تو آپ کا دماغ اس معجزے کے لیے کام کرنا شروع کر دے گا اور آپ وہ معجزہ کر دکھائیں گے۔

کامیابی کے لیے اونچے خواب اور سخت محنت کے علاوہ آپ کو کامیابی کی توقع بھی ہونی چاہیے۔ توقع کو حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کو اپنی صلاحیتوں پر،اپنی خواہشات پر اور اپنی کامیابی پرمکمل یقین ہو۔

یہ دنیا صرف ان لوگوں کے لیے بنی ہے۔ جن کو خود پر اعتماد ہوتا ہے جب آپ کو یقین ہو کہ آپ کر سکتے ہیں، تو کیسے خود بخود ظاہر ہو جاتا ہے۔اس دنیا میں کوئی بھی چیز ناممکن نہیں ہے۔ صرف آپ کو اس کے حصول کامکمل یقین ہونا چاہیے۔

ہم زندگی میں ایک دو بار ناکام ہونے کے بعد یقین کر لیتے ہیں کہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور پھر ہم ہمیشہ ناکام ہو جاتے ہیں۔ لہذا ہمیشہ اچھے کی امید رکھیں۔ کبھی بھی برے یابدترین کی توقع نہ کریں۔ معجزے کی توقع کریں گے تو معجزے رونما ہوں گے۔ یقین ہی سے چیزیں ممکن اور ناممکن ہوتی ہیں۔

وہ یقین ہی ہوتا ہے جو آپ کے مستقل کے نتائج کے حوالے سے توقعات پیدا کرتا ہے، آپ کی توقعات آپ کے رویے کا تعین کرتی ہیں اور آپ کا رویہ آپ کے کردار کا تعین کرتا ہے۔ توقعات کی بنیادیں حقائق پر نہیں بلکہ آپ کے یقین پر کھڑی ہوتی ہیں۔

اس لیے توقعات کے حوالے سے محتاط رہنا ضروری ہے۔ کیونکہ آپ جس چیز کی توقع کرتے ہیں ۔ اکثر اوقات ویسا ہی ہو جاتا ہے۔ کامیاب لوگ مثبت توقع رکھتے ہیں اور ناکام لوگ منفی توقع رکھتے ہیں۔

یقین پر اشعار

جو یقیں کی راہ پہ چل پڑے اُنہیں منزلوں نے پناہ دی
جنہیں وسوسوں نے ڈرا دیا وہ قدم قدم پہ بہک گئے

خود اعتمادی کا جذبہ

کامیاب زندگی اور مکمل شخصیت کیلئے جس چیز کی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، وہ اس کا اعتمادہے۔ اگر آپ کو اپنی کامیابی پر شک ہے تو آپ کبھی بھی کسی بھی فیلڈ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

وہ اعتماد ہی ہوتا ہے جو کامیابی کو آپ کے قدموں میں لا کر نچھاور کرتا ہے۔جو شخص خود اعتمادی اور خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ اسے کامیابیاں مل کر ہی رہتی ہیں۔ خود اعتمادی کے حوالے سے آپ ہماری تحریر کامیابی کا راز خوداعتمادی میں ہے پڑھ سکتے ہیں۔

اگر آپ بھی اپنی زندگی میں کامیاب ہونا چاہتے ہیں اور کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہماری ویب سائیٹ پر کامیابی سے متعلقہ تحریریں پڑھ سکتے ہیں۔ کامیابی سے متعلقہ آپ ہماری مندرجہ ذیل تحریریں پڑھ سکتے ہیں۔

کامیابی کیا ہے، کامیابی کا راز اور کامیابی کے سنہری اصول
کامیابی کا راز محنت میں پوشیدہ ہے
مثبت اور منفی سوچ کامیابی پر کیسے اثرانداز ہوتی ہے۔
قوت برداشت کامیابی کی کنجی ہے۔ پانچ سبق آموز واقعات

یقین کی طاقت

ایک دن حضرت جنید بغدادی کی آنکھ میں کچھ ایسا زخم پیدا ہوا کہ حضرت جنید بغدادی کو طبیب کے پاس جانا پڑا طبیب نے معائنہ کرنے کے بعد حضرت جنید بغدادی سے کہا کہ اب اس زخم کا علاج صرف ایسے ہی ممکن ہے کہ آپ اس آنکھ کو پانی سے بچائے رکھیں ورنہ بینائی زائل ہونے کا بھی خدشہ ہے۔

یہ سن کر آپ مسکرا اٹھے اور اپنےساتھیوں سے کہا کہ "ہم تو جان کا نذرانہ لیے کھڑے ہیں اور یہ طبیب بینائی جانے سے ڈرا رہا ہے” اور آپ نے اس غیر مسلم طبیب کے بات کا بالکل بھی خیال نہ کیا اور وضو کر کے عشاء کی نماز ادا کرنے لگے اور حسبِ معمول ساری رات عبادت میں گذاری۔

اگلے دن جب طبیب معائنے کے لیے آپ کے پاس آیا اور معائنے کے بعد حیرت سے آپ کی جانب دیکھا اور پوچھا "حضرت یہ آنکھ ا یک ہی رات میں کیسے درست ہوگئی”؟

"وضو کرنے سے” آپ نے اطمینان بھرے لہجے میں طبیب کو جواب دیا آپ کا جواب سن کر طبیب بہت شرمندہ ہوا اور صدقِ دل سے ایمان لے آیا۔ یہ ہوتی ہے اللہ اور اس کے رسول کے دین پر یقین کی طاقت۔

نوٹ: اس تحریر سے متعلقہ اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ کا حق بنتا ہے کہ اسے فیس بک پر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

 

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے