خود اعتمادی کیا ہے؟ اپنے اندر خود اعتمادی کیسے پیدا کی جائے

خود اعتمادی کیا ہے؟ اپنے اندر خود اعتمادی کیسے پیدا کریں

خود اعتمادی کیا ہے؟

کامیاب زندگی اور مکمل شخصیت کیلئے جس چیز کی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے ، وہ اس کا اعتماد ہے۔ اعتماد ہی کامیابی کی کنجی ہوتی ہے۔ اگر آپ کو اپنی کامیابی پر شک ہے تو آپ کبھی بھی کسی بھی فیلڈ میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔

وہ اعتماد ہی ہوتا ہے جو کامیابی کو آپ کے قدموں میں لا کر نچھاور کرتا ہے۔جو شخص خود اعتمادی اور خدا کی ذات پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے۔ اسے کامیابیاں مل کر ہی رہتی ہیں۔ خود اعتمادی کا حصول فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اپنے کیئے گئے فیصلے پر عمل کرنے کی طاقت پر ہوتا ہے۔

جنگ میں اسلحہ نہیں لڑتا بلکہ اسے تھامنے والے فوجی کا دل لڑتا ہے۔ اور دل بھی نہیں، بلکہ اس کے دل میں موجود اس کا اعتماد لڑتا ہے۔ اعتماد سے محروم شخص کی زندگی مکمل شکست کی طرف لڑھکتی رہتی ہے۔ اس کے برعکس پر اعتماد شخص کی زندگی مناسب رفتار سے کامیابی و کامرانی کی طرف بڑھتی رہتی ہے۔

تاریخ پر اگر دھیان دین تو معلوم ہو گا کہ کسی شعبے میں کسی فرد نے اگر کوئی کامیابی حاصل کی ہے تو اس کامیابی کا راز اس کا اعتماد ہو گا۔ دراصل یہ طاقت تو انسان کے اندر موجود ہوتی ہے، صرف اس طاقت کو استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

جیسا آپ کو اعتماد ہو گا، ویسی آپ کی طاقت ظاہر ہو گی۔ اور جیسی آپ طاقت ظاہر کریں گے۔ ویسی کامیابی آپ کے قدم چومے گی۔زندگی کو پرامید پھرتیلا اور چست رکھیے۔پھر دیکھئے کون سا ایسا کام ہے ۔جو آپ نہیں کر سکتے۔

اپنی صلاحیتوں پر ہمیشہ بھرو سہ رکھیے۔ جب تک آپ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہو گی، آپ کامیاب اور خوش و خرم نہیں ہو سکتے۔ ایک معقول خود اعتمادی ہی کامیابی کی طرف بڑھنے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔

خود اعتمادی کو انگریزی میں Self Confidence کہتے ہیں۔ یہ سماجی اور نفسیاتی تفہیم ہے۔ خود اعتمادی اس حالت کو کہتے ہیں جہاں فرد بھرپور اعتماد کی کیفیت میں رہتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حس ہے جو حالات پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کی ضد احساس کمتری کے قریب قریب ہے۔

خود اعتمادی سچی معاون

کامیابی کی منرل پر پہنچنے کےلئے خود اعتمادی سچی معاون ثابت ہوتی ہے۔ خود اعتمادی کے ذریعے سے ہی بظاہر ناممکن نظر آنے والے کام کا ممکن ہونا ایک فطری عمل ہے۔

انسان کو جب اپنے مالک حقیقی کی قوت اور اس سے اپنے تعلق کی پہچان ہو جاتی ہے تب وہ مضبوط اعتماد سے بھرپور فاتح بن کر ابھرتا ہے اور بیرونی قوتیں اس کی معاون بن جاتی ہیں۔

کسی بھی شخص کی زندگی بزرگوں کی چھوڑی ہوئی جائیداد یا مال و دولت سے نہیں بن سکتی۔ جب تک کہ وہ اپنی خوبیدہ قوتیں اجاگر نہیں کرتا۔ارتقاء کا مقصد ہے متواتر ترقی کرنا۔

چنانچہ یہ ضروری ہے کہ آپ کے قدم متواتر چلتے رہیں۔ کسی خوف ، ڈر، مایوسی ، وہم ، پریشانی کی وجہ سے آپ کے قدم ساکن نہیں ہونے چائیں۔

مایوسی کا خاتمہ

دراصل بعض لوگوں کے دل میں ہی اپنی کامیابی کی شدید خواہش نہیں ہوتی ، اس لیے وہ زندگی میں ناکام ہوتے ہیں۔اپنی قوتوں کو جمع کر کے انہیں اپنے مقصد کی تکمیل میں لگانے کی بجائے مایوسی کو خود سے طاقتور تسلیم کر لیتے ہیں۔

ایسا کرتے ہی مایوسی ان پر غالب آ جاتی ہے۔ یہ لوگ ہر لمحے اپنی ناکامی کا خیال کر کے اپنی کامیابی پر شک کرتے ہیں اور اپنے مقصد سے خود دور ہو جاتے ہیں۔

سوچ کی تبدیلی

کامیابی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہماری سوچ ہوتی ہے۔جو ہمیں مختلف قسم کے وسوسوں اور وہموں میں مبتلا کر دیتی ہے۔جیسے :

  • اگر میں اسے پا نہ سکا تو کیا ہو گا۔۔۔؟؟
  • کہیں میں ناکام نہ ہو جاؤں ۔۔؟؟
  • وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا۔۔؟؟
  • لوگ کیا کہیں گے۔۔

ایسے تمام وسوسے اور وہم دل سے باہر نکال کر پھینک دیں اور امید و یقین کی زندگی بسر کرنا شروع کر دیں۔کیونکہ جب کوئی شخص اپنی قوت و کارکردگی کے کمزور پہلو دیکھتا ہے تو پھر اپنی صلاحیت کا اعتماد کھو دیتا ہے اور وہ ناکام ہو جاتا ہے۔

دل کی حکومت میں اعتماد ہی سپہ سالار ہے۔ تمام قوتیں اس کا حکم مان کر چلتی ہیں۔ایسے میں اگر سپہ سالار ہی ہار مان لے گا تو تمام قوتوں نے بھی حوصلہ ہار دینا ہے۔

کامیابی کی امید

اگر کسی چیز کی خواہش آپ کے دل میں پیدا ہوتی ہے اور وہ خواہش آپ کے دل میں شدید ہے ، آپ نے اسے پورا کرنے کا مضبوط ارادہ کر لیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی خواہش پوری نہ ہو۔ اپنی کامیابی کی امیدقائم رکھیں۔

کامیابی کا خواب دیکھیں۔ اس کو حاصل کرنے کےلئے خود اعتمادی کے ساتھ جدوجہد کریں، کامیابی ضرور آپ کے قدم چومے گی۔ حوصلہ ، قوت اور خود اعتمادی جیسے جذبات کو دل میں پروان چڑھائیں۔ متواتر اپنے مقصد کے راستے پر چلتے رہنا خود ایک کامیابی ہے۔

کامیابی کا یقین

کامیابی اور ناکامی کا دارومدار یقین پر ہوتا ہے۔ کوئی بھی چیز حاصل کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ آپ کو یقین ہو کہ آپ اسے حاصل کر سکتے ہیں۔ آپ کی زندگی وہی کچھ ہے جو آپ یقین کرتے ہیں۔

کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپ کو یقین ہونا چاہیے کہ آپ کامیاب ہو جائیں گے۔ کیونکہ آپ جیسا یقین کرتے ہیں ویسے ہی ہو جاتا ہے۔

سچی لگن

اکثر انسانوں کا ایک المیہ یہ بھی ہے کہ وہ دوسروں کی کامیابیاں دیکھنے میں اپنا سارا وقت کھو دیتے ہیں، حسد میں اپنا بہت سا خون جلا ڈالتے ہیں حالانکہ ہونا یہ چائیے کہ دوسروں کی کامیابی کی تعریف کرنے کے بعد اپنی پوری توجہ اپنے مقصد کو حاصل کرنے پر لگائیں۔

خود اعتمادی اور سچی لگن  کے ساتھ اپنے مقصد میں ایسے کامیاب ہو کر دکھائیں کہ دوسرے خود ہی آپ کی تعریف کرنے پر مجبور ہو جائیں۔

خود اعتمادی کیسے پیدا کریں

  1. اگر اپنے اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اپنے آپ کا موازنه دوسروں سے ہرگز نہ کریں کیونکہ خود سے باحیثیت شخص کا موازنہ آپ کو نہ صرف احساس کمتری کا شکار  کر دے گا بلکہ آپ کو سستی میں بھی مبتلا کر دے گا۔
  2. خود اعتمادی کے لئے اپنے آپ کو اس بات پر قائل کریں کہ میں ایسا کر سکتا ہوں۔ یہ احساس آپ کو تقویت بخشئے گا اور جس کام کے لئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اُسے آپ بالکل سر انجام نہیں دے سکتے تو اسے انجام دیجئے اور کام کو نامکمل چھوڑنے سے شدت کے ساتھ اجتناب کیجئے۔
  3. اپنے لئے کم مدت میں انجام پانے والے چھوٹے مقاصد کو منتخب کیجئے تاکہ اسکی تکمیل کے ذریعہ آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔ اور آپ کی ہمت بڑھے۔
  4. اگر آپ نے کبھی ماضی میں شکست کھائی ہے یا کسی غلطی کے مرتکب ہوئے ہیں تو اپنی ملامت یا تحقیر کرنے سے پرہیز کریں، اپنے آپ کے ساتھ ایک مہربان ماں کا رویہ اپنائیں جو بچے کے گرنے کے بعد اسے اٹھاتی ہے اور کہتی ہے کوئی بات نہیں پھر کوشش کرو۔
  5. قلم اور کاغذ لے کر اپنی صلاحیتوں، توانائیوں اور کوششوں کی فہرست بنائیے اور اسے روزانہ دہرانے کی کوشش کیجئے اس سے نہ صرف آپ کی ہمت بڑھے گی بلکہ آپ میں استحکام بھی آئے گا۔
  6. اپنی ناتوانیوں، کمزوریوں یا عیبوں پر زیادہ توجه دینے سے اجتناب کریں۔ تاکہ آپ کامیابی کی منازل طے کر سکیں۔
  7. ہمیشہ اپنی حوصلہ افزائی کیجئے اور کبھی خود کو حقیر نہ سمجھیں۔ جس خصوصیت کی بناء پر اپنی تحسین کریں اس پر خدا کا شکر کیجئے۔
  8. ہمیشہ خود کو یقین دلاتے رہیں کہ آپ میں کافی اعتماد موجود ہے۔ اس سے لمحہ بہ لمحہ آپ کے اعتماد میں اضافہ ہوتا جائے گا۔
  9. خود کو خوف کے مراحل میں نہ ڈالیں مثلا اگر کسی  کے سامنے زبان کھولنا دشوار محسوس ہو تو اس بات کو اتنا دہرائیں کہ رفتہ رفتہ آپ کے دل سے خوف ختم ہو جائے اور خود اعتمادی پیدا ہو جائے۔
  10. جب کسی کام کے صحیح ہونے کا مکمل یقین ہو جائے تو اس کام کو سرانجام دیں اور اس سلسلے میں دوسروں کے مذاق اڑانے کی پرواہ نہ کریں اور نہ ہی ایسا سوچیں کہ لوگ آپ کے بارے میں کیا کہیں گے۔
یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے