قوت برداشت کیا ہے؟ قوت برداشت کے حوالے سے پانچ سبق آموز واقعات

قوت برداشت کیا ہے، قوت برداشت کے حوالے سے پانچ سبق آموز واقعات

قوت برداشت کیا ہے؟

دنیا میں وہی معاشرے ، قومیں اور ملک آگے بڑھتے ہیں جن میں قوت برداشت ہوتی ہے۔ اور وہ دوسرے انسان کی رائے، خیال اور اختلاف کو برداشت کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں قوت برداشت میں کمی آتی جا رہی ہے ہم میں سے ہر شخص ہر وقت کسی نہ کسی سے لڑنے کو تیار بیٹھا ہے۔

شاید یہ قوت برداشت کی کمی ہے کہ پاکستان میں سب سے زیادہ قتل اور سب سے زیادہ حادثے قوت برداشت میں کمی کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ غصہ دنیا کے 90 فیصد مسائل کی ماں ہے اگر انسان صرف غصہ پر قابو پا لے تو اس کی زندگی کے 90 فیصد مسائل ختم ہو سکتے ہیں۔

دنیا میں لیڈرز ہوں سیاستدان ہوں حکمران ہوں یا عام انسان، ان کا اصل حسن انکی قوت برداشت ہوتی ہے۔ کوئی غصیلا اور جلد باز شخص کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اگر انسان میں برداشت کرنے کی قوت ہو تو وہ بڑی سے بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔

قوت برداشت زندگی کی کامیابیوں اور کامرانیوں کی کلید ہے۔ اکثر اوقات اس چیز کی کمی نا قابل تلافی نقصانات کا باعث بنتی ہے۔ کہتے ہیں کہ قوت برداشت کی کمی اور غصہ ہماری شخصیت میں قدم رکھتے ہی ہمیں سب سے پہلا نقصان یہ پہنچاتے ہیں کہ وہ ہماری سوچ کو سمجھ سے باہر دھکیل کر ذہن کے سبھی دروازوں پر کنڈی لگا دیتے ہیں۔ اور پھر شاید اسی وجہ سے غصہ ناقابل تسخیر بن جاتا ہے۔

ماہر نفسیات کے مطابق قوت برداشت کی کمی غصے کا باعث بنتی ہے۔ جو کئی امراض کا سبب بھی ہے۔ غصے کی وجہ سے بہت سے ذہنی اور جسمانی امراض پیدا ہوتے ہیں ، جن کی مکمل تفصیل کے لئے آپ ہماری تحریر غصہ کیا ہے، غصے کے اسباب، نقصانات اور علاج پڑھ سکتے ہیں۔

ہیلپ اردو میں ہم آپ کو چند مشہور شخصیات کی قوت برداشت کے بارے میں تفصیل سے بتائیں گے۔ جن کو پڑھ کر نہ صرف آپ کی معلومات میں اضافہ ہو گا بلکہ آپ میں بھی قوت برداشت کا ذوق پیدا ہو گا۔

1. گاما پہلون کی قوت برداشت

رستم زمان گاما پہلوان عظیم پہلوان تھا ۔ہندوستان نے آج تک اس جیسا دوسرا پہلوان پیدا نہیں کیا ۔ایک بار ایک کمزور سے دکاندار نے گاما پہلوان کے سر میں وزن کرنے والا باٹ دے مارا ۔ گامے کے سر سے خون کے فوارے چھوٹ پڑے ۔ گامے نے سر پر مفلر لپیٹا اور چپ چاپ گھر لوٹ گیا ۔ لوگوں نے کہا آپ دکاندار کو ایک تھپڑ مار دیتے تو اس کی جان نکل جاتی ۔

گامے نے جواب دیا مجھے میری طاقت نے پہلوان نہیں بنایا بلکہ میری قوت برداشت نے پہلوان بنایا ہے۔ میں اس وقت تک پہلوان رہوں گا جب تک میری قوت برداشت میرا ساتھ دے گی ۔

2. ماوزے تنگ کی قوت برداشت کا قصہ

قوت برداشت میں چین کے بانی ماوزے تنگ اپنے دور کے تمام لیڈرز سے آگے تھے وہ 75 سال کی عمر میں سردیوں کی رات میں دریائے شنگھائی میں سوئمنگ کرتے تھے ، ماوزے تنگ انگریزی زبان کے ماہر تھے لیکن انہوں نے پوری زندگی انگریزی زبان کا ایک لفظ نہیں بولا

یہ بھی پڑھیں: آج ہی تو غریبی کا مزہ آیا ہے۔ ایک سبق آموز کہانی

ان کی قوت برداشت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ انہیں انگریزی میں لطیفہ سنایا جاتا تھا ہ لطیفہ سمجھ جاتے تھے لیکن خاموش رہتے تھے پھر جب مترجم اس لطیفے کا ترجمہ کرتا تھا تو دل کھول کر ہنستے تھے۔

3. ظہیر الدین بابر کی قوت برداشت کی کہانی

ہندوستان کے پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر بھی قوت برداشت کا ایک واقع سنایا کرتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ انہوں نے زندگی میں صرف ڈھائی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

پہلی کامیابی بیس فٹ لمبے اژدھے کے ساتھ لڑائی تھی۔ اپنی جان بچانے کےلئے جنگل میں بارہ گھنٹے اکیلے لڑنا پڑا ۔ دوسری کامیابی خارش تھی خارش اس قدر شدید تھی کہ وہ جسم پر کوئی کپڑا نہیں پہن سکتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: خارش کا فوری دیسی علاج

جب اس بیماری کی خبرپھیلی تو آپ کا دشمن شبانی خان عیادت کے لیے آ گیا ۔ یہ بابر کے لیے ڈوب مرنے کا مقام تھا کہ بیماری کی حالت میں بغیر لباس کے دشمن کے سامنے جاتے، بابر نے فوراً شاہی لباس پہنا اور بن ٹھن کر شبانی کے سامنے بیٹھ گے۔

وہ آدھا گھنٹہ شبانی کے سامنے بیٹھا رہے، پورے جسم پر شدید خارش ہوئی لیکن بابر نے خارش نہیں کی، بابر ان دونوں واقعات کو اپنی دو بڑی کامیابیاں قرار دیتا تھا اور آدھی دنیا کی فتح کو آدھی کامیابی کہتا تھا ۔

4. صدر ایوب خان کی قوت برداشت

صدر ایوب خان پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے ، وہ روزانہ سگریٹ کے دو بڑے پیکٹ پیتے تھے،روز صبح ان کا بٹلر سگریٹ کے دو پیکٹ ٹرے میں رکھ کر ان کے بیڈ روم میں آجاتا تھا اورصدر ایوب سگریٹ سلگا کر اپنی صبح کا آغاز کرتے تھے۔ وہ ایک دن مشرقی پاکستان کے دورے پر تھے ، وہاں ان کا بنگالی بٹلرا نہیں سگریٹ دینا بھول گیا، جنرل ایوب خان کو شدید غصہ آیا اورانہوں نے بٹلر کو گالیاں دینا شروع کر دیں۔

یہ بھی پڑھیں: ڈبل شاہ کون تھا اور کیسے اس نے اٹھارہ ماہ میں سات ارب کمائے؟

جب ایوب خان گالیاں دے دے کر تھک گئے تو بٹلر نے انہیں مخاطب کر کے کہا ”جس کمانڈر میں اتنی برداشت نہ ہو وہ فوج کو کیا چلائے گا ، مجھے پاکستانی فوج اور اس ملک کا مستقبل خراب دکھائی دے رہا ہے۔بٹلر کی بات ایوب خان کے دل پر لگی ، انہوں نے اسی وقت سگریٹ ترک کر دیا اور پھر باقی زندگی سگریٹ کو ہاتھ نہ لگایا۔

5. ایک ولی اللہ کی قوت برداشت

ایک ولی اللہ کو ان کا مرید ملنے آیا، اس نے دیکھا کہ بیوی حضرت کو صلواتیں سنا رہی ہے، مرید نے حیران ہو کر اپنے مرشد سے پوچھا کہ ایسی بیوی کو آپ نے کیوں برداشت کر رکھا ہے، اس سے چھٹکارا حاصل کیوں نہیں کیا؟ مردِ خدا نے کہا "بھائی تم اس راز کو نہیں جانتے، اس تلخ بیان پر صبر کرنے کی مشق (قوت برداشت ) ہی نے تو ہمیں ولی بنایا ہے۔”

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے