سکون کیا ہے – ذہنی سکون اور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے؟

سکون کیا ہے - ذہنی سکون اور اطمینان قلب کیسے حاصل ہوتا ہے؟

آج کے دور میں ہر شخص سکون کا متلاشی ہے۔ دولت و شہرت اور ہر قسم کا آرام ہونے کے باوجود دل کو سکون نہیں ہے، روح کو چین نہیں ہے۔ بے چینی اور اضطراب کی کیفیت ہے۔ دل ہے کہ اداس ہے، دماغ ہے کہ پریشان ہے۔ ہر شخص سکون کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا ہے۔

اکثر انسان اپنے سوا دنیا کے ہر آدمی کو خوش و خرم اور مطمئن سمجھتے ہیں جبکہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ غم اور پریشانیاں لگی ہوئی ہیں۔ آج تک دنیا میں کوئی بھی ایسا انسان پیدا نہیں ہوا اور نہ آئندہ ہو گا جسے کوئی غم نہ ہو۔

ذہنی سکون اور اطمینان قلب ایک بہت بڑی نعمت ہے ۔ہر دور میں ہر انسان کی یہ خواہش رہی ہے کہ مجھے ذہنی سکون اور اطمینان قلب مل جائے۔ اس سکون اور اطمینان کو انسان نے جگہ جگہ تلاش کیا۔کسی نے دولت و شہرت کو سکون کی وجہ قرار دیا تو کسی نےطاقت اور عزت کو سکون کا سبب سمجھا۔

لوگ ذہنی سکون ڈھونڈنے کے لئے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں۔ بعض لوگ زیادہ سے زیادہ دولت اکٹھا کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ اس دولت سے سکون حاصل کریں گے۔

بعض لوگ سیر و تفریح میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور اس کے لئے وہ نہ جانے کن کن ملکوں کی خاک چھانتے پھرتے ہیں مگر سکون پھر بھی نہیں ملتا۔

بہت سارے بدنصیب تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو موسیقی، شراب، جوا ، نیند آور گولیوں اور حتی کہ غلط کاریوں میں بھی سکون تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم جب اس عارضی تفریح کا اثر ختم ہوتا ہے تو یہ پہلے سے زیادہ غمگین ہوجاتے ہیں۔

الغرض کوئی عیش و عشرت کو سکون سمجھتا ہے تو کسی نے رسالوں اور کتابوں کے پڑھنے میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کی ۔ کسی نے باغات میں جاکر درختوں، پودوں او رپھولوں کے رنگ و بو میں سکون تلاش کرنا چاہا ،تو کسی نے کھیل کود اور جدید تفریحی آلات کے ذریعہ سکون و اطمینان پانے کی کوشش کی۔

انسان نے سکون کے حصول کے جتنے بھی طریقے آزمائے، ان میں سے کسی طریقے میں وقت برباد ہوا، کہیں پیسہ ضائع ہوا، کہیں ایمان واخلاق کی خرابی ہوئی اور کہیں صحت کو بھی کھو دیا۔

سکون سے مراد یہ ہے کہ آپ جن حالات سے گزر رہے ہیں وہ آپ کو اچھے لگیں، آپ مطمئن ہوں۔زندگی کچھ دینے اور کچھ لینے کا نام ہے۔ اگر آپ کسی کو خوشی دیں گے تب ہی آپ امید رکھ سکتے ہیں کہ کوئی آپ کی بھی خوشی کا سبب بنے گا۔

یہ بھی پڑھیں: خوشی اور مسکراہٹ اچھی صحت کے لئے کیوں ضروری ہیں

سکون انسان کے اندر ہوتا ہے اور جو شخص اندر سے خوش ہوتا ہے ۔وہ اپنے باہر کے لیے بھی سکون اور مسرت کا سامان پیدا کر لیتا ہے۔ سکون و اطمینان کا سرچشمہ انسان کی اپنی ذات میں پوشیدہ ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ہم نے دریاؤں کے سینے چیردیئے، پہاڑوں کے دامن اکھیڑ دیئے، مگر اپنے قلب کے اطمینان کی دوا جو خود ہمارے اندر موجود ہے، اس کا شعور نہ کر پائے۔

سکون اور اطمینان قلب اللہ تعالیٰ کی وہ خاص نعمت ہے جسے دولت سے نہیں خریدا جا سکتا۔ آج کے دور میں سائنسی آلات و ایجادات نے اگرچہ انسانی زندگی کو سہل بنا دیا ہے۔مگر ان تمام سہولتوں کے باوجود انسان بے سکون ہے اور سکون قلب حاصل کرنے کے لیے نہ جانے کیا کچھ کر گزرتا ہے۔مگر قرآن پاک اٹھا کر نہیں پڑھتا،

اگر آج کا انسان قرآن پاک کی صرف سورۃ رعد آیت نمبر28 پڑھ لے تو اسے سکون اور اطمینان کا راز پتہ چل جائے گا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے۔

اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ ۗ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ

جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان(سکون) نصیب ہوتا ہے۔

بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے

جب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر والوں پر کسی قسم کی تنگی اور پریشانی آتی، دل بے سکون ہوتا تو آپ ان کو نماز کا حکم فرمایا کرتے ۔رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی سیرت طیبہ کے ذریعہ یہ تعلیم دی کہ انسان الله سے غافل ہو کر دنیا کی دولت میں کبھی اطمینان وسکون نہیں پاسکتا۔

آپ صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر آدمی کے پاس 2 وادیاں مال کی بھری ہوئی ہوں تو وہ چاہے گا کہ میرے پاس تیسری وادی بھی مال سے بھری ہوئی ہو اور ابن آدم کا پیٹ تو صرف قبر کی مٹی بھر سکتی ہے۔ اور پھر فرمایا کہ جو لوگ اپنا رخ الله کی طرف کر لیں تو ان پر الله کی خاص عنایت ہوتی ہے اور اوران کو الله اس دنیا میں اطمینان قلب عطا فرما دیتا ہے، پھر اس دنیا میں ان کی زندگی بڑے مزے کی اور بڑے سکون سے گزرتی ہے۔

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہمیں اپنی سیرت مبارک سے بہت واضح طور پر یہ سمجھایا کہ دل کا چین اور اطمینان قلب قناعت سے حاصل ہوتا ہے ۔ حرص اور لالچ سے کبھی سکون حاصل نہیں ہوتا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے زندگی کے ہر مرحلہ میں یہ تعلیم دی کہ دنیا کے ساز وسامان اور اس کی دولت میں سکون تلاش کرنا بے فائدہ ہے۔

جب ہر طرف سے مایوسی ہو اور انسان ایسی بند گلی میں کھڑا ہو جہاں سے نکلنے کا کوئی رستہ نہ ہو تو اپنے خدا کے حضور صرف ایک سجدے سے روح کو جو سکون اور لطف ملے گا وہ کائنات کی کسی اور چیز میں نہیں۔ روح کا سکون صرف ایک سجدے کی دوری پر ہے۔

پکارنے والا تو خود فلاح کی طرف پکارتا ہے مگر ہم اس وقت پتہ نہیں کس فلاح کے پیچھے بھاگ رہے ہوتے ہیں۔ اس کے دربار میں حاضر ہوں، پھر باقی سب کام اس پہ چھوڑ دیں وہ جانے اور اس کا کام جانے۔ وہ جو کرے گا بہت اچھا کرے گا اور ہمارے حق میں بہتر ہی ہو گا۔

اﷲ تعالیٰ کا ذکر زنگ آلود دل کے لیے آب رحمت ہے، ذکر اﷲ بے چین دل کا چین ہے ، اﷲ کا ذکر کرنے سے دل و روح کو اطمینان اور سکون نصیب ہوتا ہے۔ رب کا ذکر مصائب وآلام کو ٹالتا ہے۔ اسی لیے ہر مصیبت و تکلیف میں رب کو یاد کرنے کا حکم ہے۔

چنانچہ جب کوئی مشکل ہو اور حاجت پوری نہ ہو رہی ہو تو نماز حاجات پڑھیں۔ بارش نہ ہو رہی ہو تو نماز استسقاء پڑھیں۔ جب کوئی کام کرنے جا رہے ہوں اور اچھے برے کا پتا نہ چل رہا ہو تو نماز استخارہ اور دعائے استخارہ پڑھیں۔ سورج یا چاند کو گرہن لگ جائے تو نماز کسوف وخسوف پڑھیں۔ یہ سب ذکر اﷲ کی مختلف اقسام ہیں

جن چیزوں سے دل کا سکون رخصت ہو جاتا ہے ان میں ایک اہم چیز حسد ہے۔ یعنی دوسرے کے پاس نعمت دیکھ کر دل میں جلن محسوس کرنا، دوسرے کی خوش حالی دیکھ کر دل میں کڑھنا اور یہ چاہنا کہ دوسرے انسان کو یہ چیز کیوں ملی۔

یہ بھی پڑھیں: حسد کیا ہے۔ حسد کی وجوہات، نقصانات اور علاج

معاشرہ میں رہتے ہوئے آپس میں حسد کرنے سے ذہنی سکون ختم ہو جاتا ہے۔ چناں چہ رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی سیرت پاک کے ذریعہ امت کو تعلیم دی کہ اگر دل کا سکون اور اطمینان چاہتے ہو تو مثبت سوچ اور پاکیزہ خیالات کو اپناؤ۔

یہ بھی پڑھیں: مثبت اور منفی سوچ کے انسانی زندگی پر اثرات

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہمیں درس دیتی ہیں کہ خود کھا کہ اتنا اطمینان و سکون نہیں ملتا، جتنا دوسروں کو کھلا کر نصیب ہوتا ہے۔اسی طرح نفسا نفسی کے عالم میں سکون نصیب نہیں ہوتا، بلکہ احسان کرکے ، خدمت کرکے ، آپس کی ہم دردی اور غم خواری کے ذریعہ دل کا سکون نصیب ہوتا ہے۔

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے سیرت طیبہ کے ذریعہ اس بات کی بھی تعلیم دی کہ دوسروں کے حقوق کو پورا کرکے سکون ملتاہے ۔ اپنے فرائض کو اچھے طریقے سے ادا کرکے اپنے ضمیر کو مطمئن رکھا جائے تو یہی سکون کا ذریعہ ہے۔

بے شک دلوں کا سکون اللہ کے ذکر میں ہے۔ الله رب العزت ہمیں سیرت نبی صلی الله علیہ وسلم پر عمل کرکے زندگی کے ہر مرحلے میں ذہنی سکون و اطمینان قلب نصیب فرمائے۔ آمین!

سکون کے حوالہ سے اگر کوئی چیز آپ کی سمجھ میں نہیں آئی ہے یا آپ اس تحریر کے حوالہ سے مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو آپ ہمیں کمنٹس کر سکتے ہیں۔ آپ کے ہر سوال،ہر کمنٹس کا جواب دیا جائے گا۔

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگی ہے تو آپ اسے سوشل میڈیا پر شیئر کر سکتے ہیں۔ تاکہ آپ کے دوست احباب کی بھی بہتر طور پر راہنمائی ہو سکے۔

یہاں سے شیئر کریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے